Urdu book · میوات کا سفر

پندرہواں سفر

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

با وجود وسیع معلوم ہونے لگتی ہے ۔ آدمی اپنے کو ایک آفاقی مملکت کا شہری سمجھنے لگتا ہے ۔ شہر کے تمدنی بندھنوں میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان ایک ایسے جال میں پھنسا ہوا ہے جس سے رہائی ممکن نہیں ۔ مگر دیہات کی کھلی فضا، جہاں ہریالی، میدان، چڑیوں کے چہچہے، پہاڑوں کی بلندیاں انسان کا استقبال کر رہی ہوں ، جہاں آسمان کی وسعتیں خدا کی قدرت کو یاد دلاتی ہوں، وہاں زندگی کے معنی بالکل بدل جاتے ہیں ۔ یہاں تنگیاں وسعتوں میں تحلیل ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ انسانوں کے پیدا کیے ہوئے مسائل خدائی عظمتوں کے آگے حقیر ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ زندگی کی تاریکیاں کائنات کی تابناکیوں میں غائب ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں ۔ مختصر یہ ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا آدمی، انسان کے بنائے ہوئے وحشت کدہ سے نکل کر خدا کی پرسکون دنیا میں پہنچ گیا ہے ۔ یہاں آکر زندگی کے معنی بالکل بدل جاتے ہیں ۔ مگر کیسی عجیب بدقسمتی ہے کہ لوگوں کو ان حقائق کا شعور نہیں ۔ وہ خدا کے پڑوس میں ہو کر بھی انسان کی بنائی ہوئی دنیاؤں میں گم رہتے ہیں ۔ آسمان کی فضاؤں سے انہیں اپنی غذا نہیں ملتی ۔ چڑیوں کے زمزمے میں انہیں کوئی پیغام سنائی نہیں دیتا ۔ درختوں کی ہریالی میں انہیں زندگی کا کوئی سبق نہیں ملتا ۔ پہاڑوں کی بلندی میں ان کے لیے نصیحت کا کوئی سامان نہیں ہے ۔ وہ صرف انسانوں کی آواز سن سکتے ہیں ۔ خدا اور فرشتوں کی آواز سننے کے لیے ان کے کان بہرے ہیں ۔ خدا اپنی پوری کائنات کے ساتھ ان کے سامنے کھڑا ہوا ہے ، مگر ان کی آنکھیں صرف انسانی مصنوعات کو دیکھ سکتی ہیں ۔ خدائی کارخانہ کو دیکھنے کی صلاحیت ان کے اندر نہیں ۔ خدا یہاں پہاڑ کی بلندیوں اور آسمان کی وسعتوں سے اعلان کر رہا ہے کہ " میرے سایہ میں آباد ۔ میرا جوارم ہے اور میرا بوجھ ہلکا ہے" مگر کوئی نہیں جو اس ربانی پیغام سے آشنا ہو ۔ مسجد اور گاؤں میں کچھ لمحات گزارنے کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ قرآن کی آیت واجعلوا بيوتكم قبلة واقيموا الصلوۃ کا مطلب کیا ہے ۔ یعنی حالات جب اہل ایمان کو اتنا پیچھے دھکیل دیں کہ عملاً ان کے لیے گھر اور مسجد کے سوا کوئی اور میدان کار باقی نہ رہے تو انہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page