Urdu book · میوات کا سفر

پندرہواں سفر

Urdu book, p. 209

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر آدمی کے حصہ میں اس کے اپنے عمل کا انجام آتا ہے ۔ اگر چہ وہ اس کو نادانی کی بسند پر فریق ثانی کی طرف منسوب کر دیتا ہے ۔ اس مسجد اور مدرسہ کو خوش قسمتی سے ایسے کارکن ملے ہیں جو نہایت سیدھے ہیں۔ جھگڑا لڑائی تو درکنار ، وہ احتجاج کی زبانی مہم بھی چلانا نہیں جانتے ۔ وہ ماحول کے ہر خوش گوار یا ناخوش گوار واقعہ سے بے خبر رہ کر بس " قرآن کی خدمت " میں مشغول رہتے ہیں ۔ اس سادہ مزاجی کا انھیں زیر دست فائدہ ملا ہے ۔ مجھے یہاں بیت الخلاء جانے کا اتفاق ہوا۔ خلاف توقع میں نے دیکھا کہ دو نہایت صاف ستھرے بیت الخلا ر " فلش " کے اصول پر بنے ہوئے ہیں ۔ یہ میوات میں میرے لیے نئی چیز تھی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ دونوں حکومت کی مدد سے بنے ہیں ۔ حکومت کی طرف سے دیہات کے سرکاری اسکولوں کے لیے اس قسم کی سہولت کا اعلان کیا گیا تھا۔ مدرسہ والوں نے بھی اپنے لیے دو بیت الخلا ر کی درخواست دے دی ۔ درخواست منظور ہوگئی ، اور یہ مسئلہ نہایت عمدہ طریقہ پر حل ہو گیا ۔ اسی طرح مدرسہ والوں کی درخواست پر حکومت کے محکمہ نے یہاں بجلی اور پانی بھی پہنچا دیا ہے ۔ مسجد اور مدرسہ کے کارکنوں کو دیکھیے تو وہ تقریبا بے زبان معلوم ہوں گے ۔ مگر بعض حالات میں بے زبانی اس سے بھی زیادہ بڑی طاقت بن جاتی ہے جتنی کہ زبان دانی۔ کا ما سے دوبارہ بذریعہ بس روانہ ہوئے۔ اور پہاڑی ، گوپال گڑھ، سیکری وغیرہ ہوتے ہوئے گلپاڑہ پہنچے ۔ راستہ میں بس چند منٹ کے لیے میل کھیٹڑلا کے مدرسہ پر رکی ۔ یہاں میں نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے ایک شاندار مسجد اور مدرسہ وسیع رقبہ میں بنایا گیا ہے اور اس پر اسلامی مدرسہ کا بورڈ لگا ہوا ہے ۔ میں نے سوچا کہ جو لوگ " تعمیر " کے ان امکانات کو نہیں دیکھتے ، اور صرف " تخریب " کی خبریں سناتے رہتے ہیں وہ خود سب سے بڑے تخریب کار ہیں ، خواہ بطور خود وہ اپنے آپ کو معمار قوم کیوں نہ سمجھ رہے ہوں ۔ گلپاڑہ میں بھی سڑک کے کنارے ایک بڑی جامع مسجد کھڑی ہوئی نظر آئی ۔ یہ مسجد بالکل نئی جگہ پر بنائی گئی ہے ۔ اسی کے ساتھ یہاں ایک مدرسہ بھی زیر تعمیر ہے ۔ اس مسجد میں ہم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page