پندرہواں سفر
Urdu book, p. 208
By Maulana Wahiduddin Khan
کر دیا۔ انھوں نے مسجد کی تعمیر مکمل کی اور یہاں حفظِ قرآن کا مدرسہ قائم کیا۔ اب ماشاء اللہ یہ ایک آباد مسجد ہے۔ یہاں تقریباً ۵۰ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ حافظ کے علاوہ دوسرے علوم بھی بقدر ضرورت پڑھائے جا رہے ہیں۔ قاری عبدالرحمن ہزاروی اس کے روح رواں ہیں۔ میری فرمائش پر چند بچوں نے قرآن کے کچھ حصے پڑھ کو سنائے ۔ بچے جب قرأت کے ساتھ قرآن کی آیتیں پڑھ رہے تھے تو مجھے یاد آیا کہ نزولِ قرآن سے لے کر اب تک مسلسل ہر دور میں اور رات دن کے ہر لمحہ میں امت اسی طرح قرآن کو پڑھتی اور سناتی رہی ہے۔ اچانک ایسا محسوس ہوا جیسے حال کا رشتہ ماضی سے مل گیا ہے ، جیسے آج کے قاری قرآن کے الفاظ دور اول کے قاری قرآن سے ہم آہنگ ہوگئے ہیں ۔ جیسے کہ یہ وہی پیغمبر عربی کی بلند کی ہوئی قدیم آواز ہے جو مجھ کو جدید نسل کی زبان سے سنائی دے رہی ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں ۱۹۷۴ء میں کافی مارکاٹ ہوئی تھی ۔ یہاں کے مسلمان سب ادھر اُدھر چلے گیے تھے ۔ مسجد کو آباد کرنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مسلمان دوبارہ آکر بسنا شروع ہو گئے چنانچہ اب کافی مسلمان دوبارہ واپس آکر یہاں آباد ہو گئے ہیں۔ اسی طرح دوسری قوموں کے لوگوں کی آبادی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ کاما کی اس مسجد کے قریب ایک گور دوارہ ہے اور اس سے بالکل ملا ہوا مندر بھی ہے۔ یہاں جو بابا جی ہیں وہ روزانہ صبح کو فجر سے پہلے اپنی مذہبی ریکارڈنگ کرتے ہیں۔ مگر مسجد والوں نے بتایا کہ بابا جی ہماری عبادت کا اتنا احترام کرتے ہیں کہ جیسے ہی ہمارا موذن فجر کی اذان شروع کرتا ہے، وہ فوراً اپنی ریکارڈنگ بند کر دیتے ہیں۔ بابا جی ایسا کسی مطالبہ یا احتجاج کی بنا پر نہیں کرتے۔ بلکہ محض اپنے مذہبی جذبہ کے تحت کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک دوسرے کی اچھی بات کا احترام کرنا ایک فطری جذبہ ہے جو خود خدا نے ہر آدمی کے اندر پیدا کر رکھا ہے۔ اگر انسان کو چھیڑا نہ جائے تو یہ فطری جذبہ کام کرے گا اور اپنے آپ دوسروں کے اچھے کام کے احترام کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ مگر جب ایک فریق دوسرے فریق کی انا کو جگا دے تو یہ پیدائشی جذبہ دب جاتا ہے ۔ اس کے بعد انسان کی بھڑکی ہوئی انا کام کرنے لگتی ہے نہ کہ خدا کا پیدا کیا ہوا فطری جذبہ ــــــــ حقیقت یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader