Urdu book · میوات کا سفر

پہلا سفر

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

کئی گھنٹہ کی جدوجہد کے بعد بالآخر میں یہ جاننے میں کامیاب ہوا کہ اصل بات یہ ہے کہ اس علاقہ سے مسلمان تمام کے تمام چلے گیے تھے۔ یہ کیفیت تقریباً دو سال تک رہی اس دوران مسجدیں لاوارث مال کی طرح برباد کی جاتی رہیں۔ مسجدوں کے سامان ان کے پتھر وغیرہ لوگ نکال نکال کر لے جاتے رہے مسجدوں کے پتھر اب بھی شہر کے بعض مقامات پر لگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس طرح مہینوں کے لمبے عمل کے درمیان مسجدیں برباد ہوگئیں ۔ اسی طرح تنگلی دانے چوراہے پر جہاں مسجد کی جگہ راتوں رات اشوک کی لاٹ کھڑی کر دی گئی ہے۔ مجھے ایسے مسلمان ملے جنہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی آنکھ سے وہ رات دیکھی ہے جب کہ سیکڑوں کارگیر درجنوں پٹرول میکس کی روشنی میں یہ کام کر رہے تھے۔ مگر کافی کوشش کے باوجود وہ یہ نہ بتا سکے کہ وہ خاص تاریخ کیا تھی جس تاریخ کو ایک رات میں یہ واقعہ عمل میں آیا ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ واقعہ مشتبہ ہے۔ اس واقعہ کا ثبوت کاغذات سے دیا جا سکتا ہے ۔ آج بھی الور میں ایسے انصاف پسند ہندو موجود ہیں جو اپنی زبان سے اس کی تصدیق کرتے ہیں (مثال کے طور پر ماسٹر امر سنگھ ۔ الور) مگر جدید تعلیم میں مسلمانوں کے پیچھے ہونے کے جو نقصانات ہوئے ہیں ان میں سے ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ہم کو جدید انداز میں بات کہنے کا سلیقہ نہیں آیا۔ ہمارے قدیم روایتی طریقہ میں خطابت اور لفظاتی کی سب سے زیادہ اہمیت تھی ۔ ماضی میں ہماری کئی اعلیٰ ترین صلاحیتیں خطیبانۂ لفظاتی کی نذر ہوگئیں ۔ مگر اب سائنس نے جو ذوق پیدا کیا ہے اس کے بعد یہ طریقہ سطحی سمجھا جانے لگا ہے ۔ جدید معیار کے مطابق واقعات کو اس طرح بیان کرنا چاہیے کہ اس میں تمام منطقی کڑیاں موجود ہوں ۔ اعداد و شمار کی زبان میں اس کو مدلل کیا گیا ہو، وقت مقام ، تاریخ ، افراد ہر چیز متعین شکل میں موجود ہو۔ بلکہ اشکال کا فوٹو اور آوازوں کا ٹیپ بھی موجود ہو۔ مگر ہمارے یہاں اب بھی قدیم خطیبا نہ چیخ پکار کا طریقہ جاری ہے ۔ حکومت کے خلاف ہم کو ہزاروں شکایات ہیں ۔ مگر مشکل سے کوئی ایسی شکایت ہوگی جس کو جدید استدلالی انداز میں مرتب کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ ہنگامی کاموں کے لیے مسلمان اپنی جیبیں خالی کر سکتے ہیں۔ مگر ٹھوس اور سنجیدہ کاموں کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں ۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ایسی قوموں کے لیے زمانہ نے جو جگہ ریز رو کی ہے وہ صرف سماجی قبرستان ہے۔ عملی زندگی میں زمانہ انہیں کوئی زندہ مقام دینے کے لیے تیار نہیں ہو سکتا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page