پہلا سفر
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
کی کہ ہم اپنی ضروریات کے لیے اور اپنی پیداوار فروخت کرنے کے لیے شہر آتے ہیں۔ مگر یہاں ہمارے ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں جس کی وجہ سے ہم کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔ مہاراجہ الور نے اپنی طرف سے ایک زمین دی اور سارے الور کے میو کاشتکاروں پر ان کی مال گزاری کے اوپر ایک آنے فی روپیہ لگایا۔ اور رحیم خاں (کیوٹوڈا) کو ذمہ دار بنایا کہ اس طرح جو رقم حاصل ہو اس کے ذریعہ سے وہ میوؤں کے لیے شہر میں ایک قیام گاہ تعمیر کردیں۔ آج اگر آپ اس عمارت کو دیکھیں تو شاندار بلڈنگوں کے درمیان یہ قدیم وضع کی عمارت مخمل میں ٹاٹ کے پیوند کی طرح کھڑی ہوئی نظر آئے گی۔ ۲۸ کمروں کی اس عمارت میں میو طلبہ کو مفت رہائش کی سہولت دی جاتی ہے۔ مگر میو بورڈنگ ہاؤس کو پانچ لاکھ کی میو قوم میں سے صرف چند تعلیم کے شائق نوجوان ملے ہیں۔ جو اس کے ایک گوشہ میں رہتے ہیں۔ میو کاشتکار اناج بیچنے کے بعد اپنی قدیم وضع کی بیل گاڑیاں یہاں لاکر کھڑی کر دیتے ہیں۔ ان کے بیل بورڈنگ ہاؤس کے وسیع صحن میں بول و براز پھیلانے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اور میو کاشتکار حقہ پینے ہیں۔ میں نے دیکھا توہ بیگہ کی اس غیر ہموار زمین میں بیل گاڑی کا بھگوسا اڑ اڑ کر اس طرح پھیلا ہوا تھا جیسے یہ شہر کا ٹکڑا نہیں بلکہ کسی دیہات کا حصہ ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاں غیر مسلم ایک ایک انچ زمین کا بہترین استعمال کر رہے ہیں۔ میو بورڈنگ اپنے وسیع رقبہ زمین کے ساتھ صرف بیکاری اور گندگی کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ ایسی قوم سے اگر اس کا اتنا نہ چھینا جائے اور اس کو حقیر سمجھا جائے تو اس کو دوسروں سے شکایت کرنے کے بجائے خود اپنے آپ سے شکایت کرنی چاہیے۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ الور ہندوستان کا وہ بد قسمت شہر ہے جہاں ۱۱ مسجدیں مسمار کردی گئیں تو مجھے جاننے کی خواہش ہوئی کہ فسادیوں نے یہ کام کس ذریعہ سے انجام دیا۔ اس علاقہ میں پتھر کی فراوانی ہے۔ اس لیے عام طور پر عمارتیں پتھر کی بنتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ فسادی بل ڈوزر لے کر نہیں آئے۔ پھر انہوں نے کس طرح ۱۱ مسجدیں ایک دم سے ڈھاک رکہ دیں۔ میں نے الور کے مسلمانوں سے بار بار یہ جانے کی کوشش کی ، مگر وہ اس کا التزام تو شدت سے کرتے تھے کہ "مسجدیں ڈھادی گئیں" کے بجائے "شہید" کر دی گئیں کا لفظ استعمال کریں۔ مگر وہ مجھ کو یہ بتانے میں کامیاب نہیں ہوئے کہ یہ پتھریلی شہادت کسر آلہ کے ذریعے وجود میں آئی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader