دوسرا سفر
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرا سفر ۲۴ مئی ۱۹۶۹ کی شام کو ۵ بجے ہم مولانا عبد الرحیم کے ساتھ روانہ ہوئے ۔ یہ میرا میوات کا دوسرا سفر تھا۔ دتی کی فیشن ایبل عمارتوں سے گزر کر جب ہماری گاڑی ہریانہ کے علاقہ میں داخل ہوئی تو یہاں دوسرا منظر تھا۔ وسیع سڑک کے دونوں طرف جدید طرز کے فارم اور باغات کھڑے ہوئے تھے۔ کہیں کہیں چٹانوں کی باقیات اور کسیگر اور مدار سے ڈھکے ہوئے میدان اب بھی موجود تھے جو بتا رہے تھے کہ کس قسم کی زمینوں پر محنت کر کے یہ شان دار نتائج حاصل کیے گئے ہیں ۔ ۷۴ بجے شام کو ہم قصبہ نوح پہنچے ۔ میواتیوں کے اس قصبہ میں بستی کے کنارے مدرسہ قاسم العلوم رات بھر کے لیے ہماری جائے قیام تھا ۔ چھوٹی سی قدیم وضع کی مسجد اور اس سے بھی چھوٹی چھپر پڑی ہوئی درس گاہ کے ماحول میں دین دار اور معصوم چہرے ہر اس شخص کی توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں جس کی آنکھیں دینی مناظر سے لطف اندوز نہ ہونے کا ذوق رکھتی ہوں ۔ مغرب کی نماز کے بعد حفظ کے طلبہ قطار باندھ کر مسجد کے صحن میں بیٹھ گئے اور جھوم جھوم کر قرآن پڑھنا شروع کر دیا ۔ یہ مناظر دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ یہ دینی مدارس جو ہمارے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں گویا دین کے قلعے ہیں جہاں نسل در نسل دین کو محفوظ کیا جا رہا ہے ۔ یہ لوگ جو ان مدارس میں دین کی تعلیم پا کر نکلتے ہیں یہی لوگ دین کی توسیع و ترقی کے نقیب بھی بن سکتے تھے ۔ مگر ہم ان کو ان ذرائع و وسائل سے مسلح نہ کر سکے جو اقدام اور توسیع کی مہم کے لیے ضروری ہیں ۔ ہماری بدقسمتی نے انہیں بس ” آثار قدیمہ کا محافظ“ بنا کر رکھ دیا ہے ۔ نوح میں معین الاسلام میوات کا سب سے بڑا دینی مدرسہ ہے ۔ طلبار کی تعداد تقریباً ڈیڑھ سو ہے ۔ یہاں بھی کچھ وقت گزرا ۔ اس کے ناظم جناب حافظ محمد علی صاحب بہت خوبیوں کے آدمی ہیں ۔ چودھری اشرف صاحب سے بھی یہیں ملاقات ہوئی اور میوات کے مسائل پر دیر تک گفتگو رہی ۔ نوح میں میوات کا واحد مسلم اسکول ہے جس کا نام ہے برین میو ہائی اسکول (Brayne Meo High School) یہاں تقریباً دو گھنٹے گزرے اور ہیڈ ماسٹر اور دوسرے ٹیچر صاحبان سے ملاقات ہوئی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader