دوسرا سفر
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
برین نامی ایک افسر مال کو خیال ہوا کہ مسلمانوں کی تعلیم کے لیے ایک اسکول کا انتظام ہونا چاہیے چنانچہ اس نے علاقہ کے میوات کاروں پر لگان کے ساتھ ایک رقم عائد کر دی جو تحصیل داروں کی معرفت موصول ہو کر اسکول کو ملی۔ یہ رقم اس وقت دو لاکھ تھی، جو آج کے لحاظ سے پچاس لاکھ کے برابر ہے۔ ۵۲ بیگہ کا وسیع رقبہ لیے ہوتے یہ ادارہ ۲۵ سال سے صرف ہائی اسکول کے درجہ پر پڑا ہوا ہے آج تک وہ کالج نہ ہو سکا۔ اس میں طلبہ کی تعداد ساڑھے پانچ سو ہے۔ تقریباً ۳۵ فیصد مسلمان ہیں۔ اساتذہ کی تعداد ۲۱ ہے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب ایک با صلاحیت اور حساس آدمی ہیں۔ وہ اسکول کے رقبہ کے گرد باؤنڈری وال بنوا رہے ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ اس وسیع زمین کو زراعت کے لیے استعمال کریں ۔ " یہ ادارہ عبرت اور عظمت کا مرقع ہے “ ایک ٹیچر نے اس کا تعارف کراتے ہوئے کہا اور ارولی پہاڑ کے دامن میں چھوٹے اسکول کی دور تک پھیلی ہوئی زمین اس کی تصدیق کر رہی تھی۔ میں نے سوچا یہی حال ہماری پوری ملت کا ہے۔ وہ اپنے وسائل اور آبادی کے لحاظ سے عظیم امکانات کی حامل ہونے کے باوجود عبرت حسرت کا ایک نشان بن کر رہ گئی ہے ۔ میو قوم کے تعلیم میں پیچھے ہونے کی وجہ بتلاتے ہوئے ایک استاد نے کہا: ”ہمارے یہاں آٹھویں نویں کلاس کا تقریباً ہر طالب علم شادی شدہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ میو رواج کے مطابق داڑھی مونچھ نکلنے سے پہلے شادی ہو جانا ضروری ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ آگے تعلیم جاری نہیں رکھ سکتا۔ بچپن کی عمر میں شادی میو قوم کی ترقی کے لیے زبردست رکاوٹ بن گئی ہے“۔ رات نوح میں گزار کر، ۲ مئی کو ہم ساڑھے گیارہ بجے بہادس پہونچے ۔ یہاں مولانا جمیل احمد صاحب ( خلیفہ مجاز مولانا مدنی رحمتہ اللہ علیہ) سے ملاقات ہوئی۔ آپ یہاں پندرہ سال سے مقیم ہیں اور ایک ابتدائی مدرسہ چلا رہے ہیں ۔ تقریباً ۷۰ طلبہ کو تنہا پڑھاتے ہیں ۔ اردو ، قرآن اور دینی تعلیم کا انتظام ہے ۔ مولا نا جمیل احمد گھاسیڑہ (میوات) کے رہنے والے ہیں۔ مدرسہ امینیہ دہلی سے فراغت کے بعد پندرہ سال تک تبلیغ سے وابستہ رہے “ تعلیم کے بعد میری پوری جوانی اسی راہ میں خرچ ہوئی “ انہوں نے اپنا حال بیان کرتے ہوئے کہا۔ اس سلسلے میں پاکستان اور حجاز کے بھی طویل دورے کیے۔ پہلے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader