Urdu book · میوات کا سفر

تمہید

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

تمهید دہلی کے جنوب میں کوہ ارولی اور شوالک پہاڑیوں کے سلسلے پھیلے ہوئے ہیں جن کی سب سے زیادہ اونچائی ۲۵۲۵ فٹ تک ہے ۔ یہ پہاڑی سلسلے اور ، بھرت پور ، گڑگاؤں اور متھرا کو ملا کر ایک الگ جغرافیہ بناتے ہیں ۔ اسی جغرافی ٹکڑے کا نام میوات ہے ۔ اور یہیں وہ قوم بستی ہے جس کو میو کہتے ہیں ۔ ۱۹۰۱ کی مردم شماری کے مطابق قدیم راجپوتانہ کی اٹھارہ ریاستوں میں سے تیرہ میں میو قوم آباد تھی اور اس کی آبادی تقریباً چھ لاکھ تھی ۔ آزادی کے بعد ۱۹۶۱ کی مردم شماری کے مطابق میو قوم کی آبادی ہریانہ میں تقریباً دو لاکھ اور راجستھان میں تین لاکھ ( = ۵ لاکھ ) ہے۔ اس کے علاوہ میو قوم یوپی کے بعض اضلاع اور گوالیار ، بھوپال اور مالوہ میں بھی آباد ہے ۔ میو قوم اس علاقہ میں تقریباً دو ہزار برس سے آباد چلی آرہی ہے ۔ یہاں اسلام کی تبلیغ کا کام صدر اول ہی سے شروع ہو گیا تھا ۔ چودھری محمد اشرف خاں صاحب کی تحقیق کے مطابق ۱۰۰۲ میں محمود غزنوی کے عزیز سالار سید محمود غازی نے اس علاقہ کی طرف خصوصی توجہ کی ۔ ان کی اور ان کے خلفا کی کوششوں سے اس قوم کا بڑا حصہ مسلمان ہو گیا ۔ میو قوم اپنی بدوی زندگی کی وجہ سے ہمیشہ سے ایک نہایت بہادر اور محنتی قوم رہی ہے۔ اخلاقی اوصاف میں بھی وہ بہت بلند تھی ۔ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ ، ۱۹۷۲ کے ہیجانی زمانہ میں جب کہ میو قوم کو انتہائی وحشیانہ سلوک کا سامنا کرنا پڑا ، اس نے دوسری قوم کی عورتوں کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا ۔ حالانکہ ان کے ساتھ ایسے بہت سے واقعات پیش آئے ۔ آزادی کے بعد ۱۹ دسمبر ، ۱۹۷۲ کو مہاتما گاندھی میوات ( گھا سیڑھ ) گئے تھے ۔ وہاں انہوں نے کہا : " میو ایک لڑاکا قوم ہے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ میو ایک جرائم پیشہ قبیلہ سے ملتے جلتے ہیں ۔ اگر یہ الزام صحیح بھی ہو تو پھر بھی گورنمنٹ ان کو ملک سے نہیں نکال سکتی ہے ۔ ان حالات میں ٹھیک طریقہ یہ ہوگا کہ ان کی اصلاح کی جائے اور انہیں اچھا شہری بننے کی ترغیب دی جائے " میو قوم اور میوات - ۱۶۱

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page