Urdu book · میوات کا سفر

تمہید

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ بات جو گاندھی جی نے ۱۹۲۷ء میں کہی ، یہی پچھلے ہزار برس سے میو قوم کے بارہ میں سب سے زیادہ صحیح بات تھی ۔ مگر بدقسمتی سے اس راز کو جانا نہ جا سکا۔ خود میو اپنی جہالت اور بے شعوری کی وجہ سے یہ سمجھتے رہے کہ اپنے آپ کو آزاد کہلانا اور شاہان دہلی کی حکومت کو تسلیم نہ کرنا ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے ۔ دوسری طرف دہلی کے سلاطین نے یہ غلطی کی کہ میو قوم کا جو رویہ محض ان کی جہالت اور تہذیب سے دوری کی بنا پر تھا ، اس کو انہوں نے " بغاوت " پر محمول کیا۔ مسلم سلاطین اگر میو قوم کو جہالت کا مسئلہ سمجھتے تو وہ سوچتے کہ اس بہادر قوم کی تمدنی ، اقتصادی اور ذہنی حالت میں تبدیلی کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ وہ ملک کا ایک مفید عنصر بن سکے ۔ اس کے برعکس سلاطین نے میو قوم کو بغاوت کا مسئلہ سمجھا۔ اس لیے یہ قوم ان کے لیے صرف سرکوبی کا موضوع بنی رہی ۔ ناصر الدین محمود اور غیاث الدین بلبن نے اس قوم کا قتل عام کیا۔ فیروز شاہ تغلق نے فیروز پور جھگرہ میں اس پر قابو پانے کے لیے ایک فوجی چھاؤنی قائم کی ۔ ۱۳۱۳ سے ۱۴۷۴ تک خاندان سادات کے بادشاہوں نے میوات پر بار بار حملے کیے ۔ ۱۵۵۸ء میں بہلول لودی نے میوات پر حملہ کیا۔ بابر نے فتح پور سیکری کی لڑائی سے پہلے میوات میں لوٹ مار کرائی ۔ سلیم شاہ سوری کے زمانہ میں فیروز پور جھگرہ کے مقام پر لڑائیاں ہوئیں ۔ اکبر نے علاقہ میوات پر حملے کرکے اس " آزاد علاقہ " کو فتح کیا ۔ شاہ جہاں نے میو قوم کی سرکوبی کے لیے کیسری سنگھ ولد جے سنگھ کو مقرر کیا۔ اور نگ زیب عالم گیر نے ۱۷۰۷ - ۱۴ء میں میوات میں باغی میووں کی سرکوبی کے لیے اقدامات کئے ۔ اس طرح میو قوم اور دہلی کے بادشاہوں کے درمیان مسلسل جنگ جاری رہی۔ یہاں تک کہ وہ زمانہ آیا جب مسلمانوں کی حکومت ختم ہو گئی۔ اور وہ میو قوم جو اپنے آپ کو آزاد ثابت کرنے کے لیے دہلی کی سلطنت سے سیکڑوں برس تک جنگ چھیڑے ہوئے تھی ، اب نئے جمہوری حالات کے نتیجہ میں مقہوریت کے اس مقام پر پہنچ گئی کہ اپنے نہتے پڑوسیوں کے مقابلے میں بھی عزت اور خود داری کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھی ۔ مغل سلطنت کے خاتمہ کے بعد میوات میں مختلف افراد اور تحریکیں سرگرم عمل رہی ہیں۔ اور بلاشبہ انہوں نے اس علاقہ میں قابل قدر کارنامے انجام دیے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس قوم کے بعض بنیادی مسائل کے بارہ میں اب بھی اسی طرح غفلت ہو رہی ہے جس طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page