Urdu book · مطالعۂ حدیث

ذکر و دعا

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

(آزاد) رکھنا سراسر ناقابل فہم بات ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حقیقی واقعات مذکورہ بیان کی قطعی تردید کرتے ہیں۔ اسلام کی تاریخ میں الطلقاء کن لوگوں کو کہا گیا تھا، یہ ایک معلوم اور مشہور واقعہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ نبوت کے دسویں سال بعد مکہ فتح ہوا۔ اس وقت یہاں کے تمام سردار آپ کے پاس لائے گئے ۔ یہ لوگ مسلمہ طور پر جنگی مجرم کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر رسول اللہ ﷺ نے ان کے خلاف کوئی انتقامی کاروائی نہیں کی۔ اور نہ ان کے ساتھ تشدد کا کوئی معاملہ کیا۔ اس کے بجائے آپ نے ان لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اذہبوا فأنتم الطلقاء (البدایة والنہایة لابن کثیر، الجزء الرابع صفحہ ۳۰۱) یعنی جاؤ، پس تم لوگ آزاد ہو۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ المنجد میں چھپی ہوئی بات اصل واقعہ کے سراسر خلاف ہے۔ مگر اس کا غلط اور بے بنیاد ہونا صرف اس وقت معلوم ہوگا جب کہ علمی اصول کے مطابق اس کی تحقیق کی جائے ۔ اس بیان کا غلط ہونا المنجد کے صفحات میں نہیں ملے گا بلکہ اس خارجی مواد میں ملے گا جو اس بیان سے تعلق رکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ، الطلقاء کی لغوی اور تاریخی تحقیق سے نہ کہ صرف المنجد کے مذکورہ صفحہ کے پڑھنے سے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی آدمی ایک سنگین بات کو سنے یا پڑھے تو اس کو ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اس کو سن کر یا پڑھ کر مان لے اور اس کو لوگوں کے درمیان پھیلانے لگے۔ اگر آدمی کے اندر اللہ کا ڈر رہے تو اس کو اللہ کی پکڑ کے اندیشے سے ایسے فعل سے بچنا چاہئے۔ قرآن وحدیث کے مطابق یہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔ کوئی آدمی اگر سنی یا پڑھی ہوئی خبر کی تحقیق نہ کرنا چاہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ چپ رہے نہ کہ وہ بلا تحقیق بولنے لگے۔ ایسی حالت میں چپ رہنا تو آدمی کے لئے قابل معافی ہو سکتا ہے مگر بولنا ہر گز اس کے لئے قابل معافی نہیں۔ بری خبر کی تحقیق کرنا فرض ہے، اور بری خبر کو تحقیق کے بغیر بیان کرنا حرام ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو شریعت اسلامی کے اس اہم مسئلہ کو جانتے ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page