ذکر و دعا
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
حمد اور تضرع عن ابی امامۃ ، قال قال رسول الله صلی اللہ حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ الله علیہ وسلم ۔ عرض علی ربی لیجعل لی علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے رب نے میرے سامنے یہ بطحاء مكة ذَهَباً ، فقلتُ : لا يا رَبِّ ، و پیش کش کی کہ مکہ کی وادی کو تمہارے لئے سونا نَكُنْ أَشْبَعُ يوماً و أَجُوعُ يَوْماً بنا دیا جائے۔ میں نے کہا کہ اے میرے رب ، فاذ اجعتُ تَضَرَّعْتُ إليك و ذكرتك نہیں ۔ بلکہ مجھے یہ پسند ہے کہ میں ایک دن کھاؤں و اذا شبعتُ حَمدتُك وشكرتك اور ایک دن بھوکا رہوں ۔ پس جب مجھے بھوک (رواه احمد و الترمذی) لگے تو میں تیری طرف عاجزی کروں اور تجھ کو یاد کروں ۔ اور جب مجھے سیری حاصل ہو تو میں تیری تعریف کروں اور تیرا شکر ادا کروں۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے دو چیزیں مطلوب ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اللہ کی قدرت کا اعتراف کرکے اس کے آگے اپنے عجز کا اظہار کریں۔ دوسرے یہ کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو محسوس کرکے اس پر شکر کرنے والے بن جائیں ۔ یہ دونوں باتیں نہایت وضاحت کے ساتھ قرآن وحدیث میں بتائی گئی ہیں۔ مگر اس کا سب سے بڑا اعلیٰ تجربہ وہ ہے جو بھوک اور سیری کی صورت میں انسان کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جب آدمی کو بھوک لگتی ہے، جب اس کو پیاس ستاتی ہے، اس وقت اس کو آخری حد تک اس حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ وہ کس قدر کمزور اور محتاج ہے۔ اسی طرح جب بھوک پیاس کی شدت میں مبتلا ہونے کے بعد اس کو کھانا اور پانی ملتا ہے تو اس وقت اس کو آخری طور پر محسوس ہوتا ہے کہ کھانا اور پانی کتنی زیادہ قیمتی چیزیں ہیں۔ اس دنیا میں آدمی کو بھوک کا تجربہ بھی ہونا چاہئے اور سیری کا بھی۔ اس پر یہ کیفیت بھی گزرنی چاہئے کہ اس کا حلق پیاس کی وجہ سے سوکھ گیا ہو ، اور اسی کے ساتھ یہ کیفیت بھی کہ اس نے ٹھنڈا پانی پیا اور اس کے بعد اس کا وہ حال ہو گیا جس کو حدیث میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے : ذهب الظمأ وابتلت العروق (پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہو گئیں)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader