Urdu book · مطالعۂ حدیث

آخرت

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

قول پر جنت اور جہنم صحیح البخاری میں ایک روایت آئی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان العبد ليتكلم بالكلمة من رضوان الله تعالى ما يلقى لها بالا يرفعه الله بها درجات و إن العبد ليتكلم بالكلمة من سخط الله تعالى لا يلقى لها بالا يهوى بها فی جہنم (بندہ خدا کی خوشنودی کی ایک بات کہتا ہے، وہ اُس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا، اللہ اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے۔ اور بندہ خدا کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے، وہ اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا، اِس کی وجہ سے وہ جہنم میں ڈال دیا جاتا ہے)۔ ایک قول اور دوسرے قول میں یہ عظیم فرق محض الفاظ کے فرق کی بنا پر نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ فرق نیت کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ قول دراصل آدمی کی داخلی شخصیت کا ایک اظہار ہے۔ جب کوئی آدمی ایک بات بولتا ہے تو وہ بتاتا ہے کہ وہ کن احساسات میں جینے والا انسان ہے۔ دو قسم کے قول میں مذکورہ فرق کا سبب یہ ہوتا ہے کہ ایک قول خیر خواہی کے جذبہ کے تحت نکلتا ہے اور دوسرا قول بد خواہی کے جذبہ کے تحت۔ ایک قول محتاط اظہار رائے کے ہم معنیٰ ہوتا ہے اور دوسرا قول بے احتیاط رائے کے ہم معنیٰ۔ ایک قول میں سچائی کا اعتراف ہوتا ہے اور دوسرے قول میں سچائی کا انکار۔ ایک قول یہ سوچ کر زبان سے نکلتا ہے کہ خدا کے یہاں مجھے اس کا جواب دینا ہے اور دوسرا قول غافل قلب کے تحت نکلتا ہے جس کو آخرت کی جوابدہی کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ قول بظاہر کچھ الفاظ کا مجموعہ ہوتا ہے۔ مگر قول ایک آئینہ ہے جس میں آدمی کی پوری شخصیت جھلکتی ہے۔ قول میں فکر آخرت کی بھی جھلک ہوتی ہے اور آخرت سے بے خوفی کی جھلک بھی۔ ایک قول سنجیدگی میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اور دوسرا قول غیر سنجیدگی کی مثال ہوتا ہے۔ ایک قول متقیانہ قول ہوتا ہے اور دوسرا قول فاجرانہ قول۔ ایک قول میں جنت کی خوشبو شامل ہوتی ہے اور دوسرا قول وہ ہے جو جہنم کی بدبو لیے ہوئے ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page