Urdu book · مطالعۂ حدیث

آخرت

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

اعتراف عجز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عرب میں ایک شخص پیدا ہوا۔ اس کا نام عبداللہ بن جدعان تھا۔ وہ نہایت شریف اور سخی آدمی تھا۔ کثرت سے لوگوں کو کھلاتا تھا اور لوگوں برآمد میں بیٹھ کر وہ بہت کی مدد کرتا تھا۔ عبداللہ کے علم اور علم صحیح مسلم میں آیا ہے کہ جس نے کے بارے میں ایک روایت میں آئی ہے جو کہ حسب ذیل ہے: عن عائشة قالت يا رسول الله ان ابن جدعان كان يطعم الطعام ويقرى الضيف، فهل ينفعه ذالك يوم القيامة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا، انه لم يقل يوماً رب اغفر لى خطيئتى يوم الدين. حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ سے کہا کہ اے اللہ کے رسول، عبداللہ بن جدعان لوگوں کو کھانا کھلاتا تھا اور مہمانوں کی عزت کرتا تھا۔ کیا اس کا یہ عمل قیامت کے دن اس کو فائدہ پہنچائے گا۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، کیوں کہ اس نے کسی دن یہ نہ کہا کہ اے میرے رب، جزا کے دن میرے گناہ کو بخش دے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے جو چیز مطلوب ہے وہ کیا ہے۔ وہ اعتراف ہے۔ بندہ جب اپنی زندگی اور خدا کی خدائی کی پہچان حاصل کرتا ہے تو اس کے اندر شدید طور پر اپنی عاجزی کا احساس طاری ہوتا ہے۔ خدا کی عظمت اور کمال کے سامنے اس کو اپنا وجود سراپا تقصیر نظر آنے لگتا ہے۔ یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ خدا کے آگے گر پڑے۔ وہ خدا سے رحمت یارات ہے، میں نے اور بخشش کی التجا کرنے لگے۔ "خدایا مجھے بخش دے، عجز کا کلمہ دورِ حاضر کے انسان کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اور عجز کا کلمہ ہی جنت کی آخری قیمت ہے۔ جس آدمی خدایا بھی دے سکتا ہے۔ اور جزو کا منہ ہی جنت کی اصل قیمت ہے۔ اس آدمی کے پاس نہ عمل ہو اور نہ اعتراف بے عملی تو اس کو جنت آخر کس بنیاد پر دی جائے گی۔ آپ کے مسائل اور ان کا حل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page