آخرت
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
جنگ مطلوب نہیں انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی ایک مستقل سرخی ہے : آج کے لیے ایک خیال (A Thought for Today) ۔ اس سرخی کے تحت اخبار ہر روز کوئی خاص مقولہ نقل کرتا ہے ۔ ۱۹ مئی ، ۱۹۸۷ کی اشاعت میں اخبار نے اس عنوان کے تحت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قول نقل کیا جو انگریزی میں اس طرح ہے : Paradise lies in the shadow of swords. جنت تلواروں کے سایہ کے نیچے ہے) یہ اقتباس پڑھ کر ایک صاحب نے کہا : اب میری سمجھ میں آیا کہ مسلمان کیوں ہر وقت شمشیر بکف رہتے ہیں۔ جب ان کے پیغمبر نے خود یہ کہا ہو کہ ” جنت تلواروں کے سایہ میں ہے “ تو اس کے بعد تو وہ یہی کریں گے کہ ہر وقت لڑنے مرنے کے لیے تیار رہیں۔ کیونکہ لڑ کر مرنا ان کے عقیدہ کے مطابق ان کے لیے جنت کا دروازہ کھولنے والا ہے۔ مگر یہ غلط فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ مذکورہ فقرہ ، اس میں شک نہیں کہ حدیث میں آیا ہے۔ مگر اخبار میں اس کو سیاق سے الگ کرکے نقل کیا گیا ہے ، اس لیے وہ عجیب و غریب مفہوم کا حامل بن گیا ہے۔ اگر اس فقرے کو اس کے پورے مجموعہ کے ساتھ دیکھا جائے تو بالکل دوسرا نقشہ نظر آئے گا۔ یہ فقرہ در اصل ایک لمبی حدیث کا ایک ٹکڑا ہے ۔ یہ حدیث مختلف کتابوں میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آتی ہے ۔ ذیل میں ہم اس کے اصل الفاظ نقل کرتے ہیں : عن ابی النضر : سالم مولی عمر بن عبید اللہ قال : كتب اليه عبد الله بن ابي اوفى فقراته حين سار الى الحرورية ، يخبره ؛ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض ايامه التي لقي فيها العدوّ انتظر حتى اذا مالت الشمس ، قام فيهم فقال : يا ايها الناس لا تتمنوا لقاء العدو ، واسالوا الله العافية ، فاذا لقيتموهم فاصبروا ، واعلموا ان الجنة تحت ظلال السيوف ، ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم : اللهم منزل الكتاب ومجرى السحاب وهازم الاحزاب ، اهزمهم وانصرنا عليهم . ( اخرجہ البخاری و مسلم و ابوداؤد )

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader