روحِ اسلام
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
گناہ کیا ہے گناہ (sin) کیا ہے۔ اس کے بارے میں لوگوں کے درمیان مختلف تصورات پائے جاتے ہیں مثلاً ایک نظریہ وہ ہے جو فطرت (nature) پر مبنی ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ انسان کی فطرت ہی میں گناہ کے اسباب موجود ہیں۔ اس لئے انسان مجبور ہے کہ وہ گناہ کرے، یہ رائے ان لوگوں کی ہے جن کو جبر یہ کہا جاتا ہے۔ دوسرا نظریہ وہ ہے جو تربیت (nurture) پر مبنی ہے۔ اس نظریہ کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ پیدائشی طور پر انسان سادہ ورق کی مانند ہوتا ہے۔ گردو پیش کی دنیا یا سماجی حالات مرد یا عورت کو گناہ کی طرف لے جاتے ہیں۔ گویا گناہ کے فعل کا ذمہ دار خارجی سماج ہے نہ کہ خود انسان۔ گناہ کا تیسرا تصور وہ ہے جو خصوصی طور پر مسیحی چرچ تعلق رکھتا ہے۔ اس کے مطابق پہلے انسان آدم نے جنت میں ایک گناہ کیا جس کو مسیحیت میں معصیت اصلی (original sin) کہا جاتا ہے۔ انسان اول کے اس گناہ کے سبب ساری نسل انسانی گناہ گار ہو گئی۔ اب اس کے لئے پاک ہونے کی کوئی صورت نہ تھی۔ چنانچہ خدا نے اپنے بیٹے کو دنیا میں بھیجا تا کہ وہ مصلوب ہو کر لوگوں کے گناہوں کا کفارہ بن جائے ۔ گناہ کے بارے میں اسلام کا تصور ان سب سے مختلف ہے۔ اسلام کے مطابق انسان موجودہ دنیا میں امتحان (ٹسٹ) کے لئے پیدا کیا گیا ہے (الملک ۲) امتحان کی اسی مصلحت کی بنا پر انسان کو قول و عمل کی آزادی دی گئی ہے۔ انسان کو پورا اختیار ہے کہ وہ جس طرح چاہے زندگی گزارے اور جس طرح چاہے زندگی نہ گزارے۔ اس اختیار کو قرآن میں الامانہ کہا گیا ہے (الاحزاب ۷۲) قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو آزادی دینے کے ساتھ یہ بتا دیا ہے کہ فکر اور قول اور عمل کا کون سا طریقہ اس کے لئے درست ہے اور قول و عمل کا کون سا طریقہ اس کے لئے درست نہیں (الشمس ۸) قرآن کے مطابق، انسان کو اس دنیا میں یہ اختیار تو حاصل ہے کہ وہ اپنی آزادی کو جس طرح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader