روحِ اسلام
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
چاہے استعمال کرے مگر اس کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ آزادی کے استعمال کے نتائج کو اپنے اوپر اثر انداز نہ ہونے دے۔ مثلاً انسان یہ اختیار رکھتا ہے کہ وہ آگ کے انگارہ کو اپنے ہاتھ میں لے یا نہ لے۔ لیکن آگ کے انگارے کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد اس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس فعل کے انجام سے اپنے آپ کو بچا سکے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا تصور گناہ کیا ہے۔ اسلام کے نزدیک گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی آزادی کو غلط استعمال کرے۔ حدیث کے الفاظ میں، وہ خدا کی ممنوعہ چراگاہ میں داخل ہو جائے۔ گناہ کی پہچان کیا ہے۔ اس کی ایک خارجی پہچان ہے اور ایک داخلی پہچان ۔ خارجی پہچان سے مراد خدا کی کتاب ہے۔ خدا کی کتاب (قرآن) میں واضح طور پر یہ بتا دیا گیا ہے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جو خدا کے نزدیک گناہ ہیں اور جن سے آدمی کو بچنا چاہئے۔ گناہ کی داخلی پہچان انسان کا ضمیر (conscience) ہے۔ قرآن کے مطابق، انسان کے اندر پیدائشی طور پر نیکی اور بدی کی تمیز رکھ دی گئی ہے۔ (الشمس ۸) اسی طرح پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ: الاثم ما حاك في صدرك و كرهت أن يطلع عليه الناس (صحيح مسلم، کتاب البر) یعنی گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم کو یہ ناگوار ہو کہ لوگ اس کو جان لیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان صحیح فطرت پر پیدا کیا گیا ہے (الروم ۳۰) یہی بات حدیث میں بھی بتائی گئی ہے (کل مولود یولد علی الفطرة) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے نزدیک گناہ کرنا انسان کا مقدر نہیں بلکہ وہ اس کے لئے choice کا ایک معاملہ ہے۔ انسان کو شیطانی طاقتیں بہکاتی ہیں۔ اسی طرح سماجی اسباب اس کو غلط راستہ کی طرف لے جاتے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص ان اسباب سے متاثر ہو کر گناہ کرے تو وہ امتحان میں ناکام ہو گیا۔ اس سلسلہ میں اسلام کی دوسری تعلیم یہ ہے کہ گناہ کی تلافی ممکن ہے۔ اگر آدمی گناہ کے بعد تو بہ کرے اور آئندہ وہ اس سے باز رہے تو وہ اللہ کے نزدیک قابل معافی ٹھہرے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader