Urdu book · مطالعۂ حدیث

روحِ اسلام

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیث عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : ان اللہ یرضی لكم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تم سے تین باتوں پر راضی ثلاثاً۔ یرضی لكم ان تعبدوه ولا تشركوا ہوتا ہے۔ وہ اس پر راضی ہوتا ہے کہ تم اس کی عبادت به شيئاً وان تعتصموا بحبل اللہ جميعا کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور سب ولا تفرقوا وان تنا صحوا من ولاه اللہ مل کر اللہ کی رسی کو پکڑے رہو اور متفرق نہ ہو۔ اور امركم۔ ويبنخط لكم ثلاثاً۔ قیل وقال یہ کہ اللہ جس شخص کو تمھارا امیر بنائے اس کی خیر خواہی وكثرة السؤا ل واضاعۃ المال کرو۔ اور اللہ تم سے تین باتوں پر ناراض ہوتا ہے۔ (رواہ مسلم) قیل وقال سے۔ سوال کی کثرت سے اور مال کو ضائع کرنے سے۔ اللہ کی عبادت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تمام توجہات کا مرکز بن جائے۔ اللہ کے بغیر آدمی کو اپنی زندگی سونی معلوم ہونے لگے۔ اس کے مقابلہ میں شرک یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور چیز کو آدمی اپنی دل چسپی اور توجہ کا مرکز بنا لے۔ شرک کو چھوڑنا اور اللہ کا عبادت گذار بننا آدمی کو بے نفس اور بے انا بناتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ خصوصیات پیدا ہو جائیں وہ یقیناً طور پر آپس میں جڑ جائیں گے ۔ وہ ایک دوسرے سے کٹ کر نہیں رہ سکتے۔ اسی طرح جو شخص مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کا ذمہ دار ہو اس کے بارہ میں مسلمانوں کار ویہ خیر خواہ جیسا ہونا چاہئے نہ کہ حریف جیسا۔ مسلم کی ایک اور روایت کے مطابق دین ہر ایک کے لئے نصیحت (خیر خواہی) کا نام ہے اور اسی طرح حکمرانوں کے لئے بھی (ولا ئمۃ المسلمین) عام لوگ جب حکمرانوں کے اندر برائی دیکھتے ہیں تو اس کے خلاف ہنگامے کرتے ہیں اور اس کو تخت سے بے دخل کرنے کی مہم چلاتے ہیں۔ مگر مومن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ محبت کے ساتھ حکمراں کی اصلاح کی کوشش کرے۔ اللہ کو ایسے بندے پسند ہیں جو قول سے زیادہ عمل سے دل چسپی رکھتے ہوں۔ اس لئے دہ قبل و قال، کی بحث سے سخت ناراض ہوتا ہے۔ وہ ایسے لوگوں پر غضب ناک ہوتا ہے جو غفلت اور بے حسی میں، پڑے رہتے ہیں اور غیر ضروری سوالات کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح اللہ جن لوگوں کو مال دے اور اس کو وہ حقیقی مد میں خرچ کرنے کے بجائے ادھر ادھر ضائع کرتے رہیں وہ خدا کی نظر میں بد ترین جانور ہیں۔ خدا کبھی ایسے لوگوں پر اپنی رحمت کا سایہ نہیں کرے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page