Urdu book · مطالعۂ حدیث

روحِ اسلام

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

اجنبی دین عن ابی ھریرۃ قال قال رسول الله صلی الله علیه حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیه وسلم وسلم۔ بدأ الاسلام غریباً وسیعود کما بدأ نے فرمایا۔ اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، اور فطوبی للغرباء ( رواہ مسلم) وہ پھر ویسا ہی ہو جائے گا جیسا کہ شروع ہوا تھا۔ تو ایسے اجنبیوں کو مبارک ہو۔ وعن عمروبن عوف قال قال رسول الله صلی الله الله حضرت عمرو بن عوف کہتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیه عليه وسلم ۔ انّ الدين بدأ غريباً وسيعود علیه وسلم نے فرمایا۔ دین شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا، كما بدأ فطوبى للغرباء۔ وهم الذين اور وہ پھر ویسا ہی ہو جائے گا جیسا کہ شروع میں يصلحون ما افسد الناس من بعدى من تھا ۔ تو اجنبیوں کو مبارک ہو۔ یہی لوگ ہیں جو سُنتى ( رواہ الترمذی ) اس بگاڑ کی اصلاح کریں گے جو میرے بعد میری سنت میں لوگ کریں گے ۔ آدمی جب کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کے مزہ کا احساس ہوتا ہے ۔ نمکین ، میٹھا کھٹا ، کڑوا ، وغیرہ ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی کی زبان میں مختلف قسم کے ذائقہ خانے (Taste buds) ہیں ۔ کھانے کے دوران جب کوئی چیز ان ذائقہ خانوں کو چھوتی ہے تو نازک تاروں کے ذریعہ ان کی خبر دماغ تک پہنچتی ہے ۔ اس طرح آدمی جان لیتا ہے کہ وہ جو چیز کھا رہا ہے اس کا ذائقہ کیا ہے ۔ زبان کے یہ ذائقہ خانے اگر اپنی فطری حالت میں ہوں تو ایسے آدمی کو چیزوں کا صحیح ذائقہ (True taste) ملے گا اور اگر کوئی شخص اپنے ذائقہ خانوں کو ان کی اصلی حالت میں محفوظ نہ رکھ سکے تو اس کو غلط ذائقہ (False taste) ملنے لگے گا ۔ بگاڑ کے زمانہ میں ایسا ہوتا ہے کہ خدا اور رسول والا دین گم ہو جاتا ہے اور دین کی دوسری دوسری شکلیں رائج ہو جاتی ہیں ۔ مثلاً قومی دین ، برکت والا دین ، رسم و رواج والا دین ، آبائی فخر والا دین ، لوگ دین کی انھیں خود ساختہ شکلوں سے مانوس ہوتے ہیں ۔ چنانچہ وہ خدا اور رسول والے دین کو اجنبی سمجھ کر اس کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page