Urdu book · مطالعۂ حدیث

حسنِ نیت

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

عمل اور نیت صحیح البخاری کا پہلا باب اگر چہ آغاز وحی (كيف كان بدء الوحي الى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم) ہے۔ مگر اہمیت کی بنا پر اس میں سب سے پہلی حدیث نیت سے متعلق درج کی گئی ہے۔ امام البخاری اپنا سلسلہ سند بتاتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ علقمہ بن وقاص اللیلی کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن الخطاب کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ عمل کا دارو مدار نیت پر ہے۔ ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس آدمی کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے تھی تو اس کی ہجرت اسی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ کوئی عمل، خواہ بظاہر وہ دینی کیوں نہ ہو، اس کا بدلہ آدمی کو اسی نیت کے اعتبار سے ملتا ہے جس کے تحت اس نے وہ عمل کیا تھا۔ گویا عمل کا مدار آدمی کی اپنی حالت نفسی پر ہے نہ کہ خود عمل کی شکل ظاہری پر۔ مثلاً کلمہ کے الفاظ دہرا کر آدمی مومن بنتا ہے۔ مگر ایمان کا مدار محض کلمہ کے صحت تلفظ پر نہیں ہے، بلکہ ایمان کا اقرار کرنے والے آدمی کی قلبی کیفیت پر ہے۔ نماز کا مدار اس کے مسائل ظاہری کی تعمیل پر نہیں ہے بلکہ خود نمازی کے باطنی خشوع پر ہے۔ انفاق کا مدار اس کی مقدار پر نہیں ہے بلکہ اس پر ہے کہ آدمی نے اپنا انفاق خالص اللہ کے لیے کیا تھا یا اس میں کوئی اور مقصد شامل تھا، وغیرہ۔ آدمی کی جیسی نیت ہو اس کے لحاظ سے اس کی پسند بنتی ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی کام کی طرف جھکتا ہے جس میں اس کی نیت پوری ہوتی ہو۔ اس کے علاوہ جو کام ہیں ان کی طرف اسے رغبت نہیں ہوتی۔ شہرت چاہنے والا آدمی انہی کاموں کی طرف دوڑتا ہے جن میں نمائشی پہلو موجود ہو۔ ایک مادیت پسند آدمی انہی میدانوں میں سرگرم ہوتا ہے جن میں اسے مالی فائدہ پانے کی امید ہو۔ ایک قیادت کا شائق آدمی انہی چیزوں میں دھوم مچاتا ہے جن کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page