حسنِ نیت
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
ذریعہ یہ امید ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کا قائد بن جائے گا۔ دنیا کے لیے کرنے والے کا عمل دنیا میں رہ جائے گا اور جو شخص آخرت کے لیے عمل کرے وہ اپنے عمل کا انجام مزید اضافہ کے ساتھ آخرت میں پائے گا۔ قرآن و حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جو آدمی صالح نیت کے ساتھ عمل کرے اسی کا عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہوتا ہے۔ اور جس آدمی کی نیت صالح نہ ہو اس کا بظاہر نیک عمل بھی خدا کے یہاں قبولیت کا درجہ حاصل نہیں کرے گا۔ مثلاً ایک آدمی دکھاوے کے لیے مال خرچ کرے تو اس پر اس کے لیے کوئی ثواب نہیں ہے۔ اسی طرح کوئی آدمی دکھاوے کے لیے عبادت کرے تو وہ بھی اسی کو کسی ثواب کا مستحق نہیں بنائے گی۔ حتیٰ کہ اگر کوئی آدمی شہرت کے لیے جہاد کرے تو ایسا جہاد بھی خدا کی نظر میں بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔ اس معاملہ کے دو درجے ہیں۔ ایک کو شعوری اور دوسرے کو غیر شعوری کہا جا سکتا ہے۔ شعوری درجہ یہ ہے کہ آدمی پیشگی طور پر یہ سوچ کر کوئی کام کرے کہ اس کے ذریعہ سے اس کو دنیوی فائدے حاصل ہوں گے۔ لوگوں میں اس کی عزت اور مقبولیت بڑھ جائے گی۔ اس معاملہ کی غیر شعوری صورت یہ ہے کہ آدمی پیشگی طور پر اور بالکل سوچ سمجھ کر تو ایسا کام نہ کرے مگر اپنے مزاج کے اعتبار سے وہ ایسا بن گیا ہو کہ اس کی صرف نمائشی کاموں میں دلچسپی ہو۔ غیر نمائشی کام اس کو اہم نظر نہ آئیں، اس بنا پر وہ اپنے آپ کو اس میں شریک بھی نہ کرے۔ اس کو مادی فائدے والے کاموں سے رغبت ہو اور غیر مادی قسم کے کاموں سے بے رغبتی۔ ایسا آدمی بھی وسیع تر تقسیم کے اعتبار سے مذکورہ زمرہ ہی میں شامل ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader