ربانیات
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
فراست مومن قرآن میں تاریخ کے بعض واقعات کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے: ان فی ذلک لآیات للمتوسمین (الحجر ۷۵) اس آیت میں متوسم کی تشریح مقترس سے کی گئی ہے۔ یعنی ان تاریخی واقعات میں نشانی ہے اہل فراست کے لئے (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ۱۰/ ۲۴) اس سلسلہ میں ایک حدیث بھی آئی ہے جو اس کی مزید وضاحت کرتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق ، اس حدیث رسول کے الفاظ یہ ہیں: احذروا فراسة المؤمن فانه ينظر بنور الله مومن کی فراست سے بچو کیوں کہ وہ اللہ کے وينطق بتوفيق الله (جامع البيان عن تاویل نور سے دیکھتا ہے اور وہ اللہ کی توفیق سے کلام آی القرآن للطبری ۱۲/ ۲۷) کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ چیزوں کو ربانی نظر سے دیکھے اور معاملات کے اوپر اس اعلیٰ اسلوب میں کلام کرنے لگے جو خدا کی خصوصی توفیق سے کسی کو حاصل ہوتا ہے۔ مومن اور غیر مومن کا فرق یہ ہے کہ غیر مومن چیزوں کے ظاہر کو دیکھ کر اپنی رائے قائم کرتا ہے۔ جب کہ مومن چیزوں کے ظاہر سے گزر کر اس کے باطن تک پہنچتا ہے۔ وہ اندرونی حقائق کے اعتبار سے اپنی رائے قائم کرتا ہے۔ یہی وہ خاص صفت ہے جس کی وجہ سے دونوں کی رایوں میں یہ فرق پیدا ہو جاتا ہے کہ ایک کی رائے بے پناہ حد تک طاقت ور ہوتی ہے۔ اور دوسرے کی رائے بے وزن اور بے اثر ہو کر رہ جاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص ہے جس کو اللہ سے تعلق نہیں۔ وہ بس اپنی ذات میں جیتا ہے اور اپنی عقل سے رہنمائی لیتا ہے۔ ایسے شخص کو ایک آدمی گالی دیتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ زیادتی کرتا ہے۔ اب کیا ہو گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader