Urdu book · مطالعۂ حدیث

ربانیات

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

اب یہ ہوگا کہ اس شخص کی انا بھڑک اٹھے گی۔ اس کی عقل اس کو بتائے گی کہ اس آدمی کو سبق سکھانا ہے۔ اگر میں نے اس کو سبق نہیں سکھایا تو وہ مجھ کو بزدل سمجھ لے گا اور آئندہ میرے خلاف زیادتیوں کے لئے وہ اور بھی جری ہو جائے گا۔ یہ سوچ کر وہ مذکورہ آدمی سے لڑ جائے گا۔ خواہ اس کے نتیجہ میں اس کو مزید تباہی کے سوا کچھ اور ملنے والا نہ ہو۔ اس کے برعکس جس آدمی کے خوف خدا نے اس کو متواضع بنا رکھا ہو۔ جس کو خدا کی بڑائی کی معرفت اس طرح حاصل ہو جائے کہ اس کے اندر سے اپنی بڑائی کا احساس نکل جائے ۔ ایسے آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس کے خلاف اشتعال انگیز بات کرے تو اس کی تواضع کی نفسیات اس کو اس انجام سے بچائے گی کہ وہ اشتعال انگیزی پر بھڑک اٹھے۔ اس کا خوف خدا اس بات کا ضامن بن جائے گا کہ بھڑکنے والی بات کے باوجود وہ معتدل بنا رہے۔ اشتعال انگیزی پر بھڑک اٹھنے والا آدمی اگر اپنی عقل کو کھو بیٹھتا ہے تو اشتعال انگیزی پر نہ بھڑکنے والے آدمی کو یہ خصوصیت حاصل ہوگی کہ اس کے جذبات پوری طرح اس کے قابو میں ہوں اور اس کی عقل معاملے کو ٹھیک ٹھیک سمجھے اور درست طور پر اپنی جوابی کارروائی کا منصوبہ بنائے ۔ مومن کی یہی صفت ہے جو اس کو صاحب فراست بناتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ بے پناہ حد تک نا قابل تسخیر ہو جاتا ہے۔ مومنانہ عمل ، دوسرے لفظوں میں ، ایک صابرانہ عمل ہے۔ اور غیر مومنانہ عمل اس کے مقابلے میں ایک عاجلانہ عمل ۔ صابرانہ کارروائی منصوبہ بند کارروائی کا نام ہے اور عاجلانہ کارروائی غیر منصوبہ بند کارروائی کا نام۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ عاجلانہ کارروائی ہمیشہ ناکام ہوتی ہے ، اور صابرانہ کارروائی ہمیشہ کامیاب ۔ تاریخ کے تمام تجربات اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مسلمہ ہے جس میں کوئی بھی استثناء نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page