ربانیات
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
قال اللہ، قال الرسول قرآن میں منکرین حق کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ اور انھوں نے شروع کیا تم سے پہلی بار (وهم بدؤاكم اول مرة، التوبہ ۱۳) مفسرین نے اس کی تشریح میں یہ قول نقل کیا ہے کہ البادئ اظلم (شروع کرنے والا زیادہ ظالم ہے) حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عن ابی ھریرۃ ، قال قال رسول الله صلى الله حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اذا قلت لصاحبك يوم الجمعة افت علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن تم اپنے ساتھی والامام يخطب فقد لغوت سے کہو کہ چپ رہو جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو (متفق علیہ) تو تم نے لغو کام کیا۔ قرآن کی مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب دو آدمی آپس میں لڑ جائیں تو ان میں سے جس شخص نے ٹکراؤ میں پہل کیا ہے، وہ زیادہ بڑا ظالم قرار پائے گا۔ اجتماعی زندگی میں اختلاف یا شکایت کے مواقع آتے ہیں۔ مگر ایسے مواقع پر آدمی کو پرامن تدبیر پر کے رہنا ہے۔ اس کے لیے کسی حال میں یہ جائز نہیں کہ وہ حد کو پار کر کے ٹکراؤ اور تصادم کے میدان میں داخل ہو جائے۔ اور جو حدیث نقل کی گئی، اس سے ایک اور اسلامی اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر ایک آدمی غلطی کر بیٹھے تو دوسرے آدمی کو چاہیے کہ وہ اس سے اعراض کرے، وہ ہرگز جوابی غلطی نہ کرے۔ جوابی غلطی ، ایک غلطی کو دو غلطی بنا دیتی ہے۔ وہ اس برائی میں مزید اضافہ کر دیتی ہے جس کو برداشت نہ کر کے اس کے خلاف اقدام کیا گیا تھا۔ یہ خدا اور رسول کا حکم ہے۔ اس کے مطابق آدمی کو پہلی غلطی سے بھی بچنا ہے اور دوسری جوابی غلطی سے بھی۔ کیوں کہ پہلی غلطی کرنے والا اگر ظالم ہے تو دوسری غلطی کرنے والا لائی ۔ اس دنیا میں سب سے بڑا ظلم کرنے والا وہ ہے جو جارحیت کا آغاز کرے۔ اور سب سے زیادہ لغو کام کرنے والا وہ ہے جو ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی کرے۔ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کو ظلم سے بھی بچنا ہے اور لغو کام کرنے سے بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader