Urdu book · مطالعۂ حدیث

ربانیات

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام اولاً فساد کی پہل کرنے والوں کو روکتا ہے ۔ اور اگر کوئی شخص پہلی نادانی کر بیٹھے تو اسلام کا تاکیدی حکم یہ ہے کہ فریق ثانی ہرگز دوسری نادانی نہ کرے ۔ ہندوستان میں ہولی کے دن ایک ہندو کچھ مسلمانوں کے اوپر رنگ ڈال دیتا ہے ۔ مسلمان مشتعل ہو کر لڑنے لگتے ہیں ۔ اور پھر ساری بستی میں فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑتا ہے ۔ پاکستان کے ایک ہوٹل میں کسی مسئلہ پر تکرار ہوتی ہے ۔ ایک پٹھان کچھ مہاجرین کے اوپر گرم چائے کی پیالی پھینک دیتا ہے۔ یہ مہاجرین مشتعل ہو کر لڑ پڑتے ہیں ۔ اور اس کے بعد پورے شہر میں مہاجر مسلمان اور پٹھان مسلمان کے درمیان جنگ شروع ہو جاتی ہے ۔ ان واقعات میں بلاشبہ فساد کا آغاز کرنے والا ہندوستان میں ہندو اور پاکستان میں پٹھان ہے ۔ مگر قرآن کی رو سے دیکھے تو دونوں جگہ فساد کو بڑھانے کی ذمہ داری فریق ثانی پر عائد ہوتی ہے ۔ ہندوستان میں مسلمان کے اوپر اور پاکستان میں مہاجر کے اوپر ۔ کیوں کہ دونوں جگہ فریق ثانی نے یہ کیا کہ فریق اول کے جس واقعہ پر قرآن نے عفو و درگزر کا حکم دیا تھا ۔ اس کو انھوں نے انتقام اور جوابی کارروائی کا عنوان بنایا ۔ موجودہ دنیا دارالامتحان ہے ۔ یہاں ہر شخص کو آزادی حاصل ہے ۔ اس لیے مذکورہ نوعیت کے چھوٹے چھوٹے واقعات بہر حال ہر جگہ پیش آئیں گے ، خواہ وہ مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک ۔ یہ اس تخلیقی منصوبہ کا فطری نتیجہ ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کو بنایا ہے ۔ اسی لیے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو اعراض کے خانہ میں ڈال دو ۔ اس کو اشتعال اور انتقام کا مسئلہ نہ بناؤ ۔ اب جو شخص ایسا کرے وہ بلاشبہ غلطی پر ہے ۔ کیوں کہ وہ خدا کے نظام تخلیق پر راضی نہیں ہوا ۔ ہندوستان اور پاکستان میں جو لوگ عفو و درگزر کے اصول کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے ، وہی لوگ " پیٹرو ڈالر" کے ملکوں میں جاکر مبالغہ کی حد تک عفو و درگزر کے اصول کی پابندی کرتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی نظر میں قرآن کے حکم کی اتنی اہمیت نہیں جتنی اہمیت پیٹرو ڈالر کے حکم کی ہے ۔ اس سے زیادہ عجیب بات ہے کہ اس کے باوجود یہ لوگ اپنے آپ کو قرآن کا مومن کامل سمجھتے ہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page