Urdu book · مطالعۂ حدیث

حسنِ نیت

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

چند حدیثیں مَن لبس ثوب شهرة البسه الله ثوب مذلة جو شخص شہرت کا لباس پہنے، اللہ اس کو قیامت کے دن یوم القیامۃ (احمد، ابو داود، نسائی ، ابن ماجہ) ذلت کا لباس پہنائے گا۔ اس حدیث کا ایک تعلق نمائشی لباس سے ہے۔ اسی کے ساتھ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اگر شہرت پسندی میں مبتلا ہو تو اس کا یہ مزاج اس کو آخرت کی دنیا میں رسوا کرنے والا ثابت ہوگا۔ خاموش کاموں سے بے رغبت ہونا اور ایسے کاموں کے لئے دوڑنا جس میں انخباری اہمیت (نیوز ویلو) ہے، جس سے آدمی کی ایج بڑھتی ہے، جس میں عوامی استقبالئے وصول ہوتے ہیں۔ یہ سب شہرت کے وہ لباس ہیں جو اللہ کو ناپسند ہیں اور آخرت کی ابدی زندگی میں وہ آدمی کے لئے رسوائی کا لباس بن کر ظاہر ہوں گے۔ مَنْ ذَكَرَ اَمْرًا بِشَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ لِيُعِيدَهُ بِه جس نے کسی شخص کے بارے میں ایسی بات کہی جو اس کے حَبَسَهُ اللهُ فی نَارِ جَهَنَّمَ حَتَّی يَاْتِي بِفَنَاذِ اندر نہیں ہے تاکہ اس کے ذریعہ اس کو عیب لگائے مَا قَالَ فِيهِ (الطبرانی) تو اللہ اس کو جہنم کی آگ میں روکے گا یہاں تک کہ اس نے جو کچھ کہا ہے اس کے حق میں وہ کوئی ثبوت لائے گویا ایسی تنقید کرنا انگاروں سے کھیلنا ہے جب کہ کسی کی طرف ایسے خیالات منسوب کر کے اس کو نشانہ تنقید بنایا جائے جو اس نے نہیں کہے یا اس کو ایسی علمی اور اخلاقی کمزوریوں کے لئے متہم کیا جائے، جو محض الزام کی حیثیت رکھتی ہوں اور حق کی موجودگی کا کوئی واقعی ثبوت ناقد کی طرف سے پیش نہ کیا گیا ہو۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنَّ اللهَ تَعَالٰی لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ وَلَكِنْ يَمْحُو اللہ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو نیکی سے السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ اِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ (احمد وغیرہ) مٹاتا ہے۔ گندگی کبھی گندگی کو نہیں مٹا سکتی۔ اس حدیث کا ایک پہلو وہ ہے جو انفرادی زندگی سے متعلق ہے۔ ایک شخص کو اپنے پڑوسی سے یا کسی اور سے، برے سلوک کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں اگر وہ بھی اس کے ساتھ برا سلوک کرنے لگے تو اس سے برائی میں صرف اضافہ ہوگا۔ اس سے برائی ختم نہیں ہو سکتی۔ برائی کو ختم کرنے کی واحد صورت صرف یہ ہے کہ ایک طرف سے اگر برائی کا اظہار ہوتا ہے تو دوسری طرف سے اچھائی کا اظہار کیا جائے۔ یہی اصول اجتماعیات کے لئے بھی صحیح ہے۔ ایک قوم اگر تعصب اور فساد کا طریقہ اختیار کرتی ہے تو دوسری قوم جوابی نفرت اور تعصب سے اس کی اصلاح نہیں کر سکتی۔ ایک حکمران اگر ظلم کرتا ہے تو ہنگاموں اور توڑ پھوڑ کی سیاست سے اس کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک گروہ اگر سماجی اور اقتصادی استحصال کرتا ہے تو دوسرا گروہ شور وغل یا منفی تدبیروں سے اس کو دور نہیں کر سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page