حسنِ نیت
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
اس حدیث میں جس بات کی تعلیم دی گئی ہے اس کو دوسرے لفظوں میں مثبت طریق فکر (positive thinking) کہا جاسکتا ہے۔ یعنی دوسروں کی طرف سے منفی تجربہ پیش آئے تب بھی آدمی اپنے آپ کو مثبت رویہ پر قائم رکھے ۔ دوسروں کی طرف سے ستایا جائے تب بھی آدمی ایسا نہ کرے کہ وہ بگڑ کر دوسروں کو ستانے لگے۔ دوسرے لوگ اگر بے اصولی کی روش اختیار کریں تب بھی آدمی اپنے آپ کو با اصول روش پر قائم رکھے۔ دوسرے لوگ اگر عہد کو توڑ دیں تب بھی آدمی اپنے آپ کو عہد کا پابند بنائے رہے۔ منفی سلوک کے باوجود مثبت سلوک پر قائم رہنے کا یہ طریقہ کوئی بزدلی کا طریقہ نہیں ہے بلکہ یہ زیادہ بڑا عمل ہے۔ یہ طریقہ ایک اعلیٰ تدبیر ہے نہ کہ کسی قسم کی پسپائی۔ فطرت کا قانون ہے کہ آگ کو آگ سے بجھایا نہیں جاسکتا۔ آگ کو بجھانے کے لیے پانی درکار ہے۔ یہی قانون اخلاق دنیا میں انسان سے بھی مطلوب ہے۔ کرچکاہوں۔ یہ معلوم نہیں کہ تمھاری کیا رائے ہے؟

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader