حسنِ نیت
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
لغتنی لو لا ات سمعت النبی صلی اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے علیہ وسلم یقول : لا یحل لامرأةِ سنا ہے کہ کوئی عورت جو اللہ پر اور آخرت تؤمن باللہ والیوم الآخر أن کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز تحِدّ علی میتِ فوق ثلاثٍ إلّا نہیں کہ وہ کسی مردہ شخص پر تین دن سے زیادہ علی زوجٍ ، فإنہا تحد علیہ سوگ منائے ، سوا اپنے شوہر کے ، کیوں کہ اربعۃ أشہرٍ وعشرا۔ اس پر وہ چار مہینہ اور دس دن تک سوگ منائے گی۔ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابو سفیان بن حرب کا انتقال شام میں ہوا۔ مگر یہ بیان واقعہ کے مطابق نہیں۔ کیوں کہ متفقہ روایات کے مطابق ، حضرت ابو سفیان کا انتقال مدینہ میں ۳۱ ھ میں ہوا۔ جو واقعہ مدینہ میں پیش آیا ، اس واقعہ کو اس روایت میں شام سے منسوب کیا گیا ہے (فتح الباری ۶/۳ - ۱۷۵) اس فروگزاشت پر رد عمل کا ایک غیر سنجیدہ طریقہ ہے ، اور دوسرا سنجیدہ طریقہ ۔ غیر سنجیدہ طریقہ یہ ہے کہ اس کو شوشہ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اور سنجیدہ طریقہ یہ ہے کہ اس کو حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر سے دیکھا جائے۔ جو آدمی اس فروگزاشت کو شوشہ بنائے وہ اس کی بنیاد پر پوری صحیح بخاری کو مشتبہ قرار دے سکتا ہے۔ وہ امام بخاری کے علم کا مذاق اڑائے گا۔ وہ ان کے احتیاط کی روایتوں کو فرضی قصے قرار دے گا۔ وہ کہے گا کہ جب بخاری کو اتنا بھی نہیں معلوم تھا کہ ابو سفیان کا انتقال شام میں ہوا یا مدینہ میں تو ان کی مرتب کی ہوئی کتاب پر کیوں بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس سنجیدہ آدمی اس کو ایک انسانی سہو قرار دے کہ کہے گا کہ اس سے اصل کتاب پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ امام بخاری اس حدیث کو جس ترجمہ باب کے تحت لائے ہیں، اس کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اس سے ان کی منشا یہ بتانا ہے کہ کسی عورت کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے سوا کسی اور شخص کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے۔ اصل مدد مذکورہ تاریخ کے باوجود ثابت ہے۔ ابوسفیان کی وفات مدینہ میں ہو تب بھی اور شام میں ہو تب بھی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader