Urdu book · مطالعۂ حدیث

حسنِ نیت

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

لفظ کا فرق الامام ابو عبد الله محمد بن اسماعیل البخاری (۲۵۶-۱۹۴ھ) کی کتاب صحیح البخاری حدیث کی مشہور ترین کتاب ہے۔ علماء کا اتفاق ہے کہ قرآن کے بعد سب سے زیادہ صحیح کتابیں دو ہیں، صحیح بخاری اور صحیح مسلم۔ اور صحیح بخاری ان دونوں میں زیادہ صحیح ہے (اتفق العلماء علی أن اصح الكتب بعد القرآن الصحيحان : البخاري ومسلم وكتاب البخاري اصحهما) فتح الباري ۵/۱-۶ امام البخاری نے چھ سو ہزار (چھ لاکھ) حدیثوں کے ذخیرہ میں سے تقریباً ۷۲۰۰ حدیثیں منتخب کیں اور ان سے یہ مجموعہ تیار کیا ہے۔ مزید یہ کہ ہر حدیث کو لینے سے پہلے استخارہ کیا اور دو رکعت نماز پڑھی (صفحہ ۶) حتی کہ خواب میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور انہیں خصوصی طور پر اپنے مجموعہ احادیث کی صحت کے بارہ میں بشارت حاصل ہوئی۔ ایک شاعر نے کہا کہ امام بخاری نے جن حدیثوں کو اپنی کتاب میں جمع کیا ہے، گویا کہ انھوں نے ان احادیث کو براہِ راست خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے : كأن البخارى فى جمعه تلقى من المصطفى ما اكتسب ان ساری خصوصیات کے باوجود صحیح بخاری غلطیوں سے پاک نہیں، چنانچہ علماءِ حدیث نے صحیح بخاری میں متعدد نہایت واضح قسم کی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ مثال کے طور پر صحیح بخاری کی کتاب الجنائز کا ایک باب ہے : إحداد المرأة علی غیر زوجھا۔ یعنی عورت کا اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور شخص کی موت پر سوگ منانا۔ اس باب کی دوسری حدیث یہ ہے : عن زينب ابنة أُم سلمة قالت۔ زینب بنت ابی سلمہ کہتی ہیں کہ جب ابو سفیان لما جاء نعى ابوسفيان من الشام کی موت کی خبر شام سے آئی تو ام حبیبہ نے دعت أم حبيبة رضى الله عنها بصفرة تیسرے دن ایک زرد خوشبو منگوائی۔ پھر اس کو فى اليوم الثالث فمسحت عارضيها اپنے دونوں رخساروں اور دونوں بازووں وذراعيها وقالت۔ انى كنت عن هذا پر ملا اور کہا۔ مجھے اس کی ضرورت نہ تھی مگر میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page