ربانیات
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن اور حدیث کو سمجھنے کے لیے صرف عربی جاننا کافی نہیں۔ مذکورہ تمام افراد عرب نسل سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کی مادری زبان عربی تھی ۔ اسی کے ساتھ وہ اعلی تعلیم یافتہ بھی تھے ۔ مگر مذکورہ حدیث کو وہ نہ سمجھ سکے ۔ حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان جاننے کے ساتھ آدمی کے اندر سنجیدگی ضروری ہے جس کو قرآن میں تقویٰ کہا گیا ہے (البقرہ (۲۸۲) اگر سنجیدگی نہ ہو تو صرف عربی زبان کو جاننا قرآن اور حدیث کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ قرآن کے مطابق ، تقویٰ علم صحیح کا ذریعہ ہے (واتقواللہ و یعلمکم اللہ) آدمی کے اندر اگر تقویٰ کی صفت نہ ہو تو خارجی معلومات کا کوئی بھی ذخیرہ اس کا بدل نہیں بن سکتا۔ تقویٰ عالم کے لیے ایک خدائی لگام کی مانند ہے۔ یہ لگام اس کو ادھر ادھر منحرف ہونے سے بچاتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن اور حدیث کا مفہوم متعین کرنے کی دو صورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ اس کا مفہوم اپنی خواہشات اور اپنے تعصبات کے تحت مقرر کیا جائے۔ جو لوگ اس قسم کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ بظاہر ایک آیت یا ایک حدیث کا حوالہ دیں گے ۔ مگر اس آیت اور اس حدیث میں وہ خود اپنے آپ کو پڑھ رہے ہوں گے نہ کہ خدا اور اس کے رسول کی بات کو۔ ایسے لوگ اپنے جذبات و خیالات میں اتنا زیادہ گم ہوتے ہیں کہ ان کے لیے یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ آیت یا حدیث کو بے لاگ انداز میں سمجھ سکیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی پوری طرح خالی الذہن ہو کر قرآن و حدیث کو پڑھے، وہ کھلے ذہن کے تحت یہ جاننے کی کوشش کرے کہ خود آیت یا حدیث کے الفاظ سے کیا مفہوم نکل رہا ہے ایسے ہی لوگ اس کے صحیح مفہوم تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس معاملہ میں تقویٰ کا رول یہ ہے کہ وہ آدمی کے اندر احتیاط کا مزاج بناتا ہے، خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ آیت یا حدیث کا ٹھیک وہی مفہوم لے جو واقعی طور پر اس سے نکلتا ہے نہ کہ کوئی خود ساختہ مفہوم جو آدمی کے اپنے دماغ میں تو ضرور ہے، مگر آیت کے الفاظ میں اس کا کوئی وجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader