Urdu book · مطالعۂ حدیث

ربانیات

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

شریعت کا حکم اسلامی شریعت کا ایک متفقہ مسئلہ ہے : المشقة تجلب التيسير (مشقت آسانی کا موجب ہوتی ہے۔) یعنی جب کسی شرعی حکم پر عمل کرنا مشقت کا باعث ہو تو ایسے حالات میں خود شرعی حکم کو نرم کر دیا جاتا ہے ، نہ یہ کہ حالات کو نظر انداز کرتے ہوئے ہر قیمت پر شریعت کی تعمیل پر اصرار کیا جائے۔ مثال کے طور پر ایک مسلمان پر حج کی عبادت فرض ہو چکی ہے ، مگر اس کے لئے حج کے سفر کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ کسی وجہ سے خطرناک ہو گیا ہے تو ایسی حالت میں یہ حکم نہیں دیا جائے گا کہ تم جان و مال کا خطرہ مول لے کر حج کے لئے نکلو ، بلکہ خود حج کا فریضہ اس کے اوپر سے ساقط ہو جائے گا۔ اسی طرح ایک شخص مرض میں مبتلا ہے۔ نماز کا وقت آیا اور اس پر نماز کی ادائیگی فرض ہوگئی لیکن اندیشہ ہے کہ اگر وہ پانی سے وضو کرے گا تو اس کا مرض بڑھ جائے گا۔ ایسی حالت میں اس سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ تم جان پر کھیل کر وضو کرو۔ بلکہ اس سے کہا جائے گا کہ تم مٹی سے تیمم کر کے اپنی نماز ادا کر لو ۔ اسی طرح ایک شخص بھوکا ہے اور وہ ایسے حالات میں ہے کہ وہاں خنزیر کے گوشت کے سوا کوئی اور چیز اس کے لئے قابل حصول نہیں۔ اس وقت اس سے شریعت کا مطالبہ یہ نہیں ہو گا کہ خواہ تم بھوک کے مرجاؤ مگر حرام گوشت کا کوئی ٹکڑا اپنے منھ میں مت ڈالو۔ اس کے برعکس ایسے مضطر شخص کے لئے خنزیر کے گوشت کو کھانا جائز قرار دیدیا جائے گا۔ وغیرہ۔ شریعت کا ہر حکم استطاعت کے ساتھ مشروط ہے (التغابن (۱۶)، اسی کو حدیث میں ان الفاظ میں فرمایا کہ : اذا امرتکم بامرفأ تومنها ما استطعتم (بخاری و مسلم) یعنی جب میں تم کو کوئی حکم دوں تو اس میں سے جتنا تمہارے بس میں ہو اتنا کرو۔ یہ شریعت کا ایک نہایت اہم اصول ہے اور اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے علماء اس اصول کو صرف جزئی مشقتوں پر منطبق کرتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں شاید کوئی بھی عالم نہیں جو اس شرعی اصول کو بڑی بڑی مشقتوں کے معاملہ میں چسپاں کرتا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page