Urdu book · مطالعۂ حدیث

ربانیات

Urdu book, p. 197

By Maulana Wahiduddin Khan

الگ اپنا کوئی نیا مقام اجتماع بنائیں ۔ دوسرا اور نیا اجتماع گاہ بنانا اس وقت سخت مشکل کام تھا۔ اس کے برعکس کعبہ کا صحن ایک بنے بنائے اجتماع گاہ کی صورت میں موجود تھا۔ پیغمبر اسلام نے بتوں کی موجودگی کے ناپسندیدہ پہلو کو وقتی طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اس موجود نقشہ کار کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور وہاں اپنے دعوتی خطاب کا مستقل سلسلہ شروع کر دیا۔ کام کا یہی وہ عملی طریقہ ہے جس کو مذکورہ حدیث میں اختیارِ ایسر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں قابل حصول نقشہ کار (available framework) سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے اس پیغمبرانہ حکمت کو نہیں سمجھا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ وہ ایسر اور اعسر میں فرق نہ کر سکے۔ اُن کے لیے قابل حصول نقشہ کار موجود تھا مگر اپنی بے خبری کی بنا پر وہ نا قابلِ حصول نقشہ کار میں اپنی عملی سرگرمیاں دکھاتے رہے۔ قانونِ فطرت کے مطابق ، اس کا نتیجہ صرف یک طرفہ تباہی ہو سکتا تھا اور وہی اُن کے حصہ میں پیش آیا۔ برصغیر ہند میں اس کی ایک مثال انگریزوں کے خلاف علماءِ ہند کی پُر تشدد تحریک ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ علماء کی یہ پُر تشدد تحریک ساٹھ سالہ قربانیوں کے باوجود اپنے مقصد میں ناکام رہی۔ اس کے برعکس مہاتما گاندھی کی انہی انگریزوں کے خلاف پر امن تحریک صرف پچیس سال میں اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہو گئی۔ اس فرق کا واحد سبب یہ تھا کہ مہاتما گاندھی کی پر امن جد و جہد قابل حصول نقشہ کار کے دائرہ میں تھی ، جب کہ علماءِ ہند کی پُر تشدد جد و جہد نا قابل حصول نقشہ کار کے دائرہ میں۔ اس معاملہ کی دوسری مثال الإخوان المسلمون کی تحریک ہے۔ انہوں نے مصر میں شاہ فاروق (وفات ۱۹۶۵) اور صدر جمال عبدالناصر (وفات ۱۹۷۰) کو مغرب نواز اور اسلام دشمن قرار دے کر اُن کے خلاف پُر تشدد تحریک چلائی۔ مگر غیر معمولی قربانیوں کے باوجود اخوانیوں کے حصہ میں کچھ بھی نہیں آیا۔ البتہ مصر ایک تباہ شدہ ملک ہو کر رہ گیا۔ مزید یہ کہ اسی اخوانی فکر کے لوگ اپنے ملک میں سیاسی دارو گیر سے بھاگ کر بڑی تعداد میں امریکہ گئے۔ اب وہ وہاں مختلف قسم کے اسلامی ادارے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page