دعوت
Urdu book, p. 220
By Maulana Wahiduddin Khan
اعتراف ان غیر معمولی الفاظ میں کیا ہے کہ : The expansion of Islam was the most miraculous of all miracles. اسلام کی تیز رفتار توسيع تمام معجزوں سے زیادہ بڑا معجزہ تھا۔ ۲۔ دوسری مثال اس عظیم پولیٹیکل چیلنج کی ہے جو منگول قبائل کی طرف سے پیش آیا۔ تیر ہویں صدی عیسوی میں وہ طوفان کی طرح اٹھے۔ انھوں نے بغداد کی خلافت کو تباہ کر دیا۔ انھوں نے سمرقند سے لے کر حلب تک تمام مسجدوں کو ڈھا دیا۔ ان کا یہ غلبہ اتنا زبردست تھا کہ کچھ لوگ یہ کہنے لگے کہ اگر تم یہ سنو کہ تاتاری شکست کھا گئے تو اس پر یقین نہ کرنا (اذا قیل لك أن التتر انهزموا فلا تصدق ) ۔ اس وقت اسلام کی نظریاتی طاقت ظاہر ہوئی ۔ مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں نے اٹھ کر تاتاریوں کے درمیان خاموش دعوتی کام شروع کر دیا۔ انھوں نے تلوار کے چیلنج کا مقابلہ اسلام کی نظریاتی طاقت سے کیا، اس کا معجزاتی نتیجہ نکلا۔ پچاس سال سے بھی کم مدت میں پوری تصویر بدل گئی۔ منگول کی اکثریت اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گئی۔ قرآن کے یہ الفاظ تاریخ بن گئے کہ : فاذا الذی بینك و بينه عداوة كأنه ولى حميم (۳۴:۴۱) ایک غیر مسلم مورخ نے اس واقعہ کو A dazzling victory for the faith of Mohammad کا نام دیا ہے۔ وہ مزید ریمارک دیتا ہے کہ : The religion of muslims had conquered where there arms had failed. مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کرلی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہو گئے تھے۔ ایک اور غیر مسلم مورخ نے اس واقعہ کا ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ ــــ فتح نے مفتوح کے مذہب کو قبول کر لیا : The conquerors have accepted the religion of the conquered. ۳۔ اسلام کے خلاف تیسرا بڑا چیلنج وہ تھا جس کو نظریاتی چیلنج (آئیڈیالوجیکل چیلنج) کہا جا سکتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader