دعوت
Urdu book, p. 221
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ یہ وہ چیلنج ہے جو کمیونزم کی طرف سے پیش آیا۔ کمیونزم (اشتراکیت) انیسویں صدی کے نصف آخر میں یورپ سے ابھرا اور تقریباََ سو سال تک پوری دنیا میں لوگوں کے ذہنوں پر چھایا رہا۔ ۱۹۱۷ میں روسی اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد جب سوویت یونین بنا تو اس نے عالمی سپر پاور کی حیثیت حاصل کر لی۔ وہ بظاہر نا قابل شکست نظریہ بن گیا۔ مگر واللہ غالب علی أمرہ (يوسف ۲۱) کے مطابق خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا۔ اور ۱۹۹۱ میں سوویت ایمپائر ہاؤس آف کارڈس (تاش کے پتوں کے محل) کی طرح ڈھ پڑا۔ اس طرح کمیونسٹ ایمپائر کا آخری انجام صرف یہ ہوا کہ وہ عالمی سطح پر ایک ایسا نظریاتی خلا (ideological vacuum) چھوڑے جس کو دوبارہ صرف اسلام ہی پر کر سکتا ہو۔ ۲۔ اسلام کے خلاف چوتھا چیلنج جدید سائنس کے ظہور کے بعد پیش آیا۔ انیسویں صدی کے نصف ثانی میں جب سائنسی دریافتیں بڑھیں اور فطرت کے چپے ہوئے قوانین معلوم ہوئے تو جدید ملحدین نے یہ کہہ کر خدا کا انکار کر دیا کہ کائنات کی توجیہ کے نام پر خدا کو مانا جاتا تھا۔ اب ہم نے فطرت کا قانون دریافت کر لیا ہے، اس لئے اب خدا کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ جولین ہکسلے (۱۸۸۷۔ ۱۹۷۵) نے جدید الحاد کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ واقعات اگر فطری اسباب کے تحت ظہور میں آتے ہیں تو وہ فوق الفطری اسباب کا نتیجہ نہیں ہوسکتے : “If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes.” اسلام کے مذہبی سسٹم کی پوری بنیاد ایک خدا کے تصور پر قائم ہے۔ اس لئے الحاد کا یہ جدید ایڈیشن اسلام کے خلاف بظاہر زبردست چیلنج تھا۔ لیکن دوبارہ خدا کا فیصلہ تاریخ میں ظاہر ہوا۔ خود مغربی دنیا میں ٹاپ کے سائنس داں اس متھ کو توڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے، مثلاً سر جیمس جینس (۱۸۷۷۔ ۱۹۴۶) اور سر آر تھر ایڈنگٹن (۱۸۸۲۔ ۱۹۴۴) وغیرہ۔ ان سائنس دانوں نے سائنسی دلائل کے ذریعہ اس حقیقت کو بتایا کہ جدید ملحدین کی یہ بات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader