دعوت
Urdu book, p. 225
By Maulana Wahiduddin Khan
شدت پسندی نہیں حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تشددوا علی أنفسکم فیشدد علیکم، فإنّ قوما شددوا علی أنفسہم فشَدّد اللہ علیہم، فتلك بقاياهم فی الصوامع والدیار (سنن ابی دائود، کتاب الأدب، باب فی الحسد) یعنی تم اپنے آپ پر سختی نہ کرو ورنہ تمہارے اوپر سختی کی جائے گی۔ کیوں کہ ایک قوم نے اپنے آپ پر سختی کی۔ پھر اللہ نے بھی ان پر سختی کی۔ تو انہی لوگوں کے باقیات ہیں گر جوں میں اور خانقاہوں میں۔ اس حدیث میں تشدد سے مراد محدود طور پر صرف مذہبی تشدد یا انتہا پسندانہ رہبانیت نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق انسانی زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ جس معاملہ میں بھی اعتدال کا طریقہ چھوڑ کر شدت کا طریقہ اختیار کیا جائے گاوہ سب اس حدیث کے حکم میں شامل ہوگا۔ اعتقادی شدت پسندی یہ ہے کہ جزئی اختلافات کی بنا پر ایک دوسرے کی تکفیر اور تفسیق کی جانے لگے۔ اسی طرح عبادتی شدت پسندی یہ ہے کہ فروعی مسالک کی بنیاد پر الگ الگ مسجدیں بنائی جائیں اور اس کو امت میں تفریق کی حد تک پہنچا دیا جائے۔ اسی طرح معاملاتی شدت پسندی یہ ہے کہ رخصت کو کم تر سمجھ کر ہر معاملہ کو عزیمت کا سوال بنا دیا جائے۔ شدت پسند آدمی اپنے آپ میں جیتا ہے۔ وہ صرف اپنی امنگوں کو جانتا ہے۔ اس بنا پر اس کی حیثیت اس انسان جیسی ہو جاتی ہے جو سڑک کو خالی سمجھ کر اس کے اوپر اپنی گاڑی دوڑانے لگے۔ ایسا آدمی کبھی کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس دنیا میں کامیابی کا راز اعتدال پسندی ہے، نہ کہ شدت پسندی۔ شدت پسندی گویا خدا کے تخلیقی نقشہ کے خلاف جینے کی کوشش کرنا ہے اور اعتدال پسندی خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کرنا۔ شدت پسندی اپنی ذات کے اعتبار سے تواضع کے خلاف ہے اور دوسروں کے اعتبار سے رعایت انسانی کے خلاف۔ اور یہ دونوں چیزیں بلاشبہ اسلام میں مطلوب نہیں۔ شدت پسندی اللہ کو پسند نہیں۔ جو لوگ شدت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں اُن کا انجام یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader