آدابِ کلام
Urdu book, p. 229
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلوبِ کلام عن ابن مسعود ان النبي صلى الله عليه وسلّم عبدالله بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ قال لقوم يتخلّفون عن الجمعة : علیہ وسلّم نے ان لوگوں کی بابت فرمایا جو جمعہ کی نماز لقد هممت ان آمر رجلاً يصلي میں نہیں آتے کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں کسی شخص بالناس ثم احرق على رجال سے کہوں کہ وہ نماز پڑھائے اور پھر میں جاکر يتخلّفون عن الجمعة بيوتهم ان لوگوں کے گھروں کو جلا دوں جو جمعہ میں پیچھے (مسلم بحوالہ مشکوٰة ۱/ ۴۳۵) رہ جاتے ہیں۔ اس حدیث کے ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے جو لوگ جمعہ کی نماز کے لیے مسجد میں نہ آئیں ان کے گھروں میں آگ لگا کر ان کو ان کے گھر کے سمیت جلا دینا چاہیے۔ مگر ایسے لوگوں کے ساتھ اس قسم کی کارروائی نہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی اور نہ آپ کے بعد اسلام کی لمبی تاریخ میں کبھی ایسا کیا گیا اور نہ علماء نے کبھی یہ فتویٰ دیا کہ تارکِ جمعہ کے گھر میں آگ لگا کر اس کو جلا دو۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کے الفاظ کبھی ظاہری مفہوم کے اعتبار سے بولے نہیں جاتے بلکہ وہ شدتِ احساس کو بتانے کے لیے بولے جاتے ہیں۔ ان الفاظ کو ان کے حقیقی مفہوم کے اعتبار سے لینا چاہیے نہ کہ محض ظاہری الفاظ کے اعتبار سے۔ ہر کلام اصلاً کسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ ہر کلام کا ایک اسلوب ہوتا ہے اور یہ اسلوب متکلم کے احساس کا مظہر ہوتا ہے۔ اگر آدمی کسی بات سے شدید طور پر متاثر ہو تو اس کے احساس کی جھلک اس کے بولے ہوئے الفاظ میں بھی آجائے گی۔ اس نکتہ کو ملحوظ رکھے بغیر کسی کلام کی اصل نوعیت کو سمجھا نہیں جاسکتا۔ سننے والا اگر سنجیدہ ہو تو متکلم کی بات کو سمجھنے میں اسے کوئی زحمت پیش نہیں آئے گی۔ مگر جو لوگ سنجیدہ اور محتاط نہ ہوں وہ ہر کلام کا الٹا مطلب نکال سکتے ہیں، خواہ وہ اللہ اور رسول کا کلام کیوں نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader