آدابِ کلام
Urdu book, p. 230
By Maulana Wahiduddin Khan
کلام کی دو قسمیں عن عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلی حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ الله عليه وسلم : لا تكثروا الكلام بغير علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ذکر کے بغیر زیادہ کلام ذكر الله - فان كثرة الكلام بغير ذكر نہ کرو۔ کیوں کہ اللہ کے ذکر کے بغیر زیادہ کلام کرنا الله قسوة للقليب - وان ابعد الناس دل کی قساوت کی وجہ سے ہوتا ہے اور جس دل میں من الله القلب القاسي - قساوت ہو وہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ (رواه الترمذی) اللہ سے دور ہوتا ہے۔ اس حدیث میں ”ذکر“ سے مراد معروف معنوں میں کلماتِ ذکر نہیں ہیں۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بات کرتے ہوئے بار بار ذکر کے کلمات کو اپنی زبان سے دہراتے رہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری بات کو یادِ خداوندی کی کیفیت سے خالی نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ اس کو یادِ خداوندی کی روح سے بھرا ہوا ہونا چاہیے۔ قساوت کے معنی سختی کے ہیں۔ ارضِ قا سیہ اس زمین کو کہتے ہیں جو بنجر ہو اور جس میں کچھ نہ اُگے ۔ جب یہ لفظ دل کے لیے بولا جائے تو اس کا مطلب ہوگا سخت دل ، ایسا دل جو بے حس ہو گیا ہو۔ جن لوگوں کے دلوں میں سختی آجائے، جن کے اندر حساسیت باقی نہ رہے، ان کا کلام ایک قسم کی لسانی ورزش ہوتا ہے۔ ایسے کلام میں تواضع اور خشیت کی روح باقی نہیں رہتی ۔ وہ بے حس مشین کی طرح بولتے ہیں نہ کہ اس انسان کی طرح جو خدا کی عظمت و جلال میں غرق ہو کر بول رہا ہو۔ اس کے برعکس جو آدمی اللہ سے ڈرتا ہو، جس کو آخرت کی جواب دہی کے احساس نے گھلا رکھا ہو، وہ جب بولے گا تو اس کے لفظ لفظ میں اس کی قلبی کیفیت کا رنگ جھلک رہا ہوگا۔ اس کا کلام ایک سنجیدہ انسان کا کلام ہوگا۔ اس کے لہجہ میں درد مندی ہوگی۔ اس کی باتوں میں گہرائی ہوگی۔ اس کی ہر بات میں خدا اور آخرت کی فکر شامل ہوگی۔ بے حس آدمی کے الفاظ انسانی ڈکشنری سے ماخوذ ہوتے ہیں، حساس آدمی کے الفاظ خدائی معرفت سے۔ اس کے نتیجہ میں دونوں کلام میں وہی فرق پیدا ہو جاتا ہے جو فرق زمین و آسمان کے درمیان ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader