Urdu book · مطالعۂ حدیث

آدابِ کلام

Urdu book, p. 232

By Maulana Wahiduddin Khan

زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ اللہ علیہ وسلم قال : ان العبد لیتکلم بالکلمۃ وسلم نے فرمایا۔ بندہ اللہ کی رضا کی ایک بات کہتا ہے من رضوان اللہ تعالی مایلقی لھا بالّا یرفعہ اور اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اس کی وجہ سے اللہ بھا درجات ، وان العبد لیتکلم بالکلمۃ اللہ اس کے درجات بہت بلند کر دیتا ہے۔ اسی طرح من سخط اللہ تعالی لا یلقی لھا بالّا یہوی بندہ اللہ کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے اور اس بھا فی جھنم (بخاری ، کتاب الرقاق) کو کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اس کی وجہ سے وہ جہنم میں جاگتا ہے۔ ایک معاملہ میں دو قسم کے کلام کی ایک مثال وہ ہے جو غزوہ بنی مصطلق (۵ ھ) کے موقع پر پیش آئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں۔ ایک اتفاقی سبب سے وہ قافلہ سے بچھڑ گئیں اور بعد کو صفوان بن معطل کے ساتھ مدینہ آئیں ۔ اس طرح کے واقعات قدیم صحرائی زندگی میں غیر معمولی نہ تھے۔ مگر اس سادہ سے واقعہ کو عبد اللہ بن ابی نے، جو رسول اللہ کو بدنام کرنے کے لئے موقع کی تلاش میں رہتا تھا ، غلط رنگ دیا اور حضرت عائشہ کو صفوان کے ساتھ ملوث کر کے آپ کی عزت د عصمت پر حملے کئے ۔ قرآن میں ہے کہ اس کی وجہ سے عبد اللہ بن ابی عذاب عظیم کا مستحق ہو گیا (نور (11) اس واقعہ کی بے ضرر توجیہہ بھی ہو سکتی تھی ۔ مگر اس نے اس واقعہ سے افک (جھوٹ) کی غذالی ۔ اس نے کہا : ”عائشہ رض کا قافلہ سے بچھڑ نا اور پھر ایک غیر مرد کے اونٹ میں بیٹھ کر واپس آنا محض اتفاقیہ نہیں ہو سکتا ، اس قسم کی کوئی بات جو کسی پاک دامن خاتون کے کردار کو مشتبہ کرے اللہ کی نظر میں جرم عظیم کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسا ایک جملہ بھی آدمی کو جہنم میں گرا دینے کے لئے کافی ہے۔ ایسے مواقع پر صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے کہ آدمی اس سے ظن خیر کی غذا لے۔ وہ اپنی آبرو پر دوسرے کی آبرو کو قیاس کرے۔ اس کی ایک مثال حضرت ابو ایوب (خالد بن زید انصاری) کا واقعہ ہے۔ جب یہ قصہ پھیلا تو ان کی بیوی نے کہا: اے ابو ایوب ، کیا آپ نے نہیں سنا کہ عائشہ کے بارے میں لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہاں۔ مگر وہ جھوٹ ہے۔ اے ام ایوب ، کیا تم ایسا کروگی۔ انھوں نے کہا خدا کی قسم نہیں، میں کبھی ایسا نہیں کر سکتی۔ ابو ایوب انصاری نے کہا: پھر عائشہ خدا کی قسم تم سے بہتر ہیں (ان ابا ایوب قالت لہ امرأته ام ایوب - یا ابا ایوب ، الا تسمع ما یقول الناس في عائشة - قال بلی و ذلك الكذب - اكنت یا ائم ایوب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page