Urdu book · مطالعۂ حدیث

آدابِ کلام

Urdu book, p. 231

By Maulana Wahiduddin Khan

زبان کا استعمال عربی کا ایک مقولہ ہے: عتی صامت خير من عنی ناطق (خاموش عاجز بولنے والے عاجز سے بہتر ہے) یعنی ایک آدمی کو بولنا نہیں آتا اس بنا پر وہ چپ رہا، تو ایسا شخص اس آدمی سے بہتر ہے جس کے اندر بولنے کا سلیقہ نہ تھا اس کے باوجود وہ بولا اور بات کو بگاڑ دیا۔ اس حقیقت کو حدیث میں زیادہ بہتر طور پر اس طرح کہا گیا ہے کہ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس کو چاہئے کہ بولے تو درست بات بولے ورنہ چپ رہے (من كان يومن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا او ليصمت صحیح البخاری، كتاب الادب۔ بولنا اپنی ذمہ داری کا اظہار ہے۔ سچا بولنے والا وہ ہے جس کے ذمہ داری کے احساس نے اس کو بولنے پر مجبور کیا ہو۔ جس بولنے میں اس قسم کا جذ بہ شامل نہ ہو وہ حقیقی معنوں میں بولنا نہیں ہے بلکہ خدا کی دی ہوئی صفت نطق کا بے جا استعمال ہے۔ اسلام میں جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان میں سے ایک اسراف ہے۔ یعنی خدا کی دی ہوئی چیزوں میں سے کسی چیز کو غیر ضروری طور پر خرچ کرنا۔ نطق بھی خدا کی ایک نعمت ہے۔ نطق کی صلاحیت کا مصرفانہ استعمال ایک ایسا فعل ہے جس پر خدا کے یہاں سخت پکڑ کا اندیشہ ہے۔ اس قسم کے استعمال پر خدا کی طرف سے پکڑ کا اندیشہ ہے نہ کہ انعام کی امید ۔ آدمی کو اگر واقعہ احساس ہو کہ نطق کی عظیم صلاحیت جو اس کو دی گئی ہے۔ وہ ایک مقصد خاص کے تحت دی گئی ہے اور وہ مقصد خاص یہ ہے کہ آدمی اپنی اس صلاحیت کو امر حق کے اظہار میں صرف کرے تو کبھی وہ غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی غلطی نہیں کر سکتا۔ وہ بولے گا تو وہی بات بولے گا جو بولنے کے قابل ہے۔ اور اگر اس کے پاس بولنے کے قابل کوئی بات نہ ہو تو وہ چپ رہے گا، نہ کہ غیر ضروری طور پر بے فائدہ کلام کرنے لگے۔ بولنا اگر کام ہے تو چپ رہنا بھی ایک کام ہے۔ خدا کے یہاں اگر بولنے پر اجر ہے تو خدا اس انسان کو بھی اجر دے گا جس کے احساس ذمہ درای نے اس کو بولنے سے روک دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page