Urdu book · مطالعۂ حدیث

آدابِ کلام

Urdu book, p. 237

By Maulana Wahiduddin Khan

بھلی بات حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ بولے تو بھلی بات بولے، ورنہ چپ رہے(من کان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا او ليصمت)۔ دنیا کا اکثر بگاڑ کسی غلط بول کا نتیجہ ہوتا ہے اسی طرح دنیا کا اکثر بناؤ کسی اچھے بول کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایک بول سے لوگوں میں محبت بڑھتی ہے اور دوسرا بول لوگوں میں نفرت پھیلانے کا سبب بن جاتا ہے۔ ایسی حالت میں سنجیدہ اور ذمہ دار آدمی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان و قلم کو استعمال کرنے میں بے حد احتیاط کرے ۔ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کچھ لکھنا یا بولنا چاہتا ہے مگر لکھنا یا بولنا اسی انسان کے لئے جائز ہے جو مذکورہ پیغمبرانہ ہدایت پر عمل کرے۔ جو شخص اس ہدایت پر عمل نہ کر سکے اس کے لئے لکھنا اور بولنا سرے سے جائز ہی نہیں ۔ اس معاملہ کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی کے پاس کہنے کے لئے ایک ایسی بات ہے جو دوسروں کے بارے میں اچھا گمان پیدا کرنے والی ہے۔ جس کی اشاعت سے لوگوں کے درمیان محبت کی فضا پیدا ہونے کی امید ہے۔ جو واضح طور پر ایک ایسی بات ہے جس سے لوگوں کے اندر مثبت ذہن یا تعمیری شوق پیدا ہونے والا ہے۔ اس قسم کی بات بلاشبہ ایک بھلی بات ہے اور اس کو کہنے پر خدا کی طرف سے کوئی پابندی نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ جو بات لکھنے یا کہنے جارہے ہیں وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک منفی بات ہے۔ اندیشہ ہے کہ اس کی وجہ سے لوگوں کے اندر بدگمانیاں پیدا ہوں۔ لوگوں کے اندر اشتعال بھڑکئے۔ لوگ ایک دوسرے کے خلاف نفرت کرنے لگیں۔ انسانیت دوست اور دشمن میں تقسیم ہو جائے۔ ایسی صورت میں آپ کے اوپر لازم ہے کہ آپ چپ رہیں، نہ کہ بول کر انسانیت کے مسائل میں اضافہ کا سبب بن جائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page