آدابِ کلام
Urdu book, p. 238
By Maulana Wahiduddin Khan
معنی نہ کہ الفاظ عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ حضرت ابو ہریرہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وسلم انہ قال : من جلس فی مجلس فكثر روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو آدمی کسی فیہ لغظہ فقال قبل ان يقوم من مجلسه : مجلس میں بیٹھا ۔ وہاں زور زور سے باتیں ہوئیں سبحانك اللهم وبحمدك اشهدان پھر اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے اس نے کہا ، اے لا الہ الا انت استغفرك واتوب اللہ تو پاک ہے اور تیری حمد ہے۔ میں گواہی دیتا اليك ، الا غفر الله له ما كان فی مجلسه ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں تجھ سے بخشش ذالك (ترمذی، نسائی) چاہتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔ تو اس مجلس میں جو باتیں ہوئیں ، اللہ ان کے لیے اسے معاف کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان " الفاظ " کو زبان سے کہہ دینے کی وجہ سے اللہ اسے معاف کر دیتا ہے یہ معافی در اصل ادائگی معنی کی بنا پر ہوتی ہے نہ کہ محض ادائگی الفاظ کی بنا پر ۔ یہ اس شخص کا حال بیان ہوا ہے جس کے دل میں اللہ کا ڈر موجود ہو ۔ ایسا شخص جب کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے اور وہاں کسی موضوع پر گفتگو ہوتی ہے تو گفتگو کے در میان کبھی اس پر غفلت طاری ہو جاتی ہے ۔ وہ زور زور سے بولتا ہے ، وہ لوگوں سے غیر ضروری تکرار کرنے لگتا ہے ۔ تاہم ابھی مجلس ختم نہیں ہوتی کہ اس کو احساس ہو جاتا ہے کہ میں نے غلط کیا ۔ میں نے بے فائدہ کلام کیا ۔ اس وقت اس کے دل میں شرمندگی کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے ۔ وہ اپنے اندر ہی اندر اپنا احتساب کرنے لگتا ہے ۔ اس سے پہلے وہ بندوں سے مخاطب تھا ۔ اب وہ اپنے رب سے مخاطب ہو جاتا ہے ۔ اس وقت اس کی زبان سے اس قسم کے کلمات نکل پڑتے ہیں جس کا ایک نمونہ اوپر کی حدیث میں نظر آتا ہے ۔ حدیث کے یہ الفاظ حقیقتہً دعا کے معنی کو بتا رہے ہیں نہ کہ محض دعا کے الفاظ کو ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader