Urdu book · مطالعۂ حدیث

ایمان

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

ذائقہ ایمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کا مزہ چکھا اس شخص نے جو اللہ کی ربوبیت پر ذاق طعم الایمان من رضی بالله رباً راضی ہوگیا۔ جو محمد کی رسالت پر راضی ہوگیا اور وبمحمد رسولاً وبالاسلام دیناً۔ اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوگیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایمان و اسلام کا معاملہ کوئی خشک معاملہ نہیں ہے بلکہ ذائقہ کا معاملہ ہے۔ اگر آپ پھل کے چھلکے کو کھائیں تو آپ کو اس سے کوئی ذائقہ نہیں ملے گا۔ مگر جب آپ پھل کا مغز کھاتے ہیں تو آپ کو اس میں ایک ذائقہ ملتا ہے۔ یہی معاملہ ایمان کا ہے۔ ایمان کو بھی اگر حقیقی طور پر اختیار کیا جائے تو وہ آدمی کے لیے نہایت اعلیٰ ذائقہ کی چیز بن جائے گا۔ حدیث کے مطابق، ایمان کا یہ درجہ آدمی کو "رضامندی" کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ آدمی جب دل کی آمادگی کے ساتھ پوری طرح دین پر راضی ہو جائے تو دین اس کے لیے ذائقہ کی چیز بن جاتا ہے۔ ذائقہ ایک تقابلی لفظ ہے یعنی بدمزگی کے مقابل میں خوش مزگی۔ ایمان آدمی کے اندر یہ استعداد پیدا کرتا ہے کہ غیر دینی بات اس کو بدمزہ معلوم ہو اور وہ اس کو کراہت کے ساتھ چھوڑ دے۔ اس کے مقابلے میں دینی بات اس کو خوش مزہ محسوس ہو اور اس کو وہ پسندیدگی کے ساتھ اختیار کر لے۔ خدا کو اپنا رب بنانے کا مطلب خدا کو اپنا سب کچھ بنالینا ہے۔ جب کوئی آدمی پورے معنوں میں خدا کو اپنا سب کچھ بناتا ہے تو بار بار اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایسا کرنے کے نتیجے میں بظاہر وہ دنیوی نقصان سے دوچار ہو رہا ہے مگر وہ اس نقصان کو بخوشی برداشت کرتا ہے۔ کیوں کہ خدا سے تعلق ہی اس کے لیے لذیذ ترین تجربہ بن جاتا ہے۔ خواہ اس میں نقصان ہو یا فائدہ۔ اسی طرح ایک مومن جب زندگی کے میدان میں داخل ہوتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو اختیار کرنے میں دنیوی مصلحتیں مجروح ہو رہی ہیں۔ اس کے باوجود وہ طریقۂ نبوی پر قائم رہتا ہے۔ کیوں کہ طریقۂ نبوی کو چھوڑنا اس کے لیے بد ذائقہ چیز بن جاتی اور طریقۂ نبوی پر قائم ہونا ایک خوش ذائقہ چیز۔ یہی معاملہ وسیع تر معنوں میں پورے اسلام کا ہے۔ اسلام کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی پوری زندگی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page