خواتین
Urdu book, p. 250
By Maulana Wahiduddin Khan
خود کفیل زندگی قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ان من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گناہ ہوں میں کچھ الذنوب ذنوبا لا تكفرها الصلاة ولا الصيام گناہ ایسے ہیں جن کو نماز اور روزہ اور حج اور عمرہ دور ولا الحج ولا العمرة ولكن يكفرها الهم في طلب نہیں کرتے ان کو دور کرنے والی چیز معاش کے المعيشة (رواه ابن عساكر وابونعيم في الحلية) حصول کی فکر کرنا ہے۔ اس حدیث میں گناہ سے مراد وہ نفسیاتی کمزوریاں ہیں جو اکثر معاشی ذرائع کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً بخل، حسد، تنگ ظرفی، وعدہ خلافی وغیرہ۔ انسانوں میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو حالات سے بے نیاز ہوکر اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دے سکیں ۔ مگر ایسے لوگ ہمیشہ بہت کم پائے گئے ہیں۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ مال ان کے لئے اخلاقی مددگار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ان کے پاس مال ہو تو وہ فیاضی کا ثبوت دیں گے اور اپنی مالی ذمہ داریوں کو بخوبی طور پر ادا کریں گے لیکن اگر وہ مال سے خالی ہو جائیں تو ان کا دل چھوٹا ہو جاتا ہے۔ وہ تعلقات میں اعلیٰ ظرفی کا ثبوت نہیں دے پاتے۔ ان کے ذمہ لوگوں کے جو مالی حقوق ہوں ان کی ادائیگی میں ان سے کوتاہیاں سرزد ہوتی ہیں۔ کوئی شخص اپنے اندر اس قسم کی کمی پائے تو وہ روزہ اور نماز کی زیادتی سے اس کو ختم نہیں کر سکتا۔ ایک شخص جو مالی مشکلات سے دوچار ہو اس کے اندر چڑچڑا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ چڑچڑا پن ایک ایسی اخلاقی کمزوری ہے جو بہت سی دوسری اخلاقی کمزوریوں کو جنم دیتی ہے ۔ اس لئے جب آدمی اپنے اندر اس قسم کی کیفیت محسوس کرے تو اس کو چاہئے کہ اللہ کے بھروسہ پر معاش کے حصول کی جدوجہد میں لگ جائے ۔ معاشی فراغت حاصل ہوتے ہی اس کا چڑچڑا پن خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اسی طرح جو شخص مالی مشکلات میں مبتلا ہو اس کے اندر پست ہمتی آجاتی ہے اور پست ہمتی بہت سی دوسری خرابیاں پیدا کرتی ہے۔ اس لئے جب آدمی اپنے اندر اس قسم کی علامت دیکھے تو اس کو چاہئے کہ معاش کی جدوجہد میں اپنی سرگرمیوں کو تیز کر دے۔ معاش کے حصول کے بعد خود بخود ایسا ہوگا کہ اس کا پستی کا مزاج جاتا رہے گا۔ اسی طرح جو شخص مال کی کمی کے مسئلہ سے دوچار ہو اس کے اندر ”دینے“ سے زیادہ ”لینے“ کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے جو بہت سی دوسری خرابیوں کو اپنے ساتھ لاتا ہے۔ اس لئے جو شخص اپنے اندر اس قسم کی کمزوری دیکھے وہ اپنے کو اس قابل بنانے کی کوشش شروع کردے کہ وہ لوگوں سے لئے بغیر اپنی ضروریات پوری کر سکے۔ جب ایسا ہوگا تو خود بخود اس کی اصلاح ہو جائے گی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader