خواتین
Urdu book, p. 251
By Maulana Wahiduddin Khan
محنت کی روزی صحیح البخاری، کتاب البیوع (باب کسب الرجل وعمله بیده) کے تحت چند حدیثیں منقول ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک حدیث یہ ہے جس کو امام بخاری نے مقدام رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے درج کیا ہے : مَا اکل احد طعاماً قط خیراً من ان یأکل من کسی آدمی نے کبھی اس سے اچھا کھانا نہیں کھایا کہ عمل یدۂ وانّ نبی اللہ داؤد علیہ السلام کان وہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھائے۔ اور اللہ کے رسول یاکل من عمل یَدِهِ داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔ ہاتھ کی کمائی سے مراد اپنی محنت کی کمائی ہے۔ اور محنت کی کمائی بلاشبہ تمام کمائیوں میں سب سے اچھی کمائی ہے۔ محنت کی کمائی اور بے محنت کی کمائی میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ اس کو انسانی زبان میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ بے محنت کمائی کیا ہے۔ مثلاً آپ کے والد آپ کے لئے بہت سی عمارتیں چھوڑ گئے ہیں جن کے کرایہ پر آپ آرام سے رہ رہے ہیں۔ بنک میں آپ کی کوئی بڑی رقم جمع ہے جس کا انٹرسٹ ہی آپ کے ماہانہ خرچ کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔ آپ کو اتفاق سے کوئی ایسی گدی مل گئی ہے جس میں چندے، ہدیے اور تحفے تحالف آتے رہتے ہیں اور لوگ خود آ کر آپ کو نذرانہ پیش کرتے رہتے ہیں۔ پٹرولڈ الر کا کوئی دہانہ آپ کو مل گیا ہے اور صرف کچھ خوبصورت الفاظ بول کر آپ بڑی بڑی رقمیں حاصل کر لیتے ہیں۔ اس قسم کی تمام کمائی بے محنت کی کمائی ہے۔ ایسی کمائی آدمی کے بدن کو تو موٹا کرتی ہے مگر اس کی روح کے لئے وہ قاتل ہے۔ ایسی ہر کمائی آدمی کی شخصیت کے ارتقاء کے لئے مستقل رکاوٹ ہے۔ ایسے آدمی میں اور خوبصورت حیوان میں کوئی فرق نہیں۔ محنت کی کمائی وہ ہے جس کے لئے آپ کو خود سوچنا پڑے۔ جس میں نفع کے ساتھ گھاٹے کا بھی اندیشہ ہو۔ جس کا حصول تمام تر آپ کی ذاتی جدوجہد پر منحصر ہو۔ ایک ہے دوسرے کی کمائی پر جینا۔ دوسرا ہے خود اپنی کمائی پر جینا۔ حدیث میں دوسرے کی کمائی پر جینے کو کمتر ذریعہ بتایا گیا ہے۔ زیادہ بہتر اور اعلیٰ ذریعہ یہ ہے کہ آدمی خود اپنی محنت کی کمائی پر جئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader