Urdu book · مطالعۂ حدیث

خواتین

Urdu book, p. 253

By Maulana Wahiduddin Khan

دولت کی بجلی ایک شخص معمولی حیثیت کا تھا۔ پھر وہ ترقی کر کے دولت مند بن گیا۔ جب وہ معمولی حیثیت کا تھا تو زیادہ خوش رہتا تھا۔ دولت آنے کے بعد وہ پریشان رہنے لگا۔ اس کے ایک پرانے دوست نے پوچھا، یہ تمہارا کیا حال ہو گیا ہے۔ پہلے تم ہنستے بولتے تھے۔ ہم لوگوں کے ساتھ کافی وقت گزارتے تھے۔ اب تم اداس نظر آنے لگے ہو۔ اس نے جواب دیا ”میرے اوپر دولت کی بجلی گری ہے“ دولت نے مجھ کو نئے نئے مسائل میں الجھا دیا ہے۔ پہلے ہمارے بچے ہمارے پاس تھے، ہم ان کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ آج ہر بچہ ہم سے دور ہے۔ کوئی یورپ ، امریکہ پڑھنے گیا ہوا ہے۔ کوئی دور کے کسی مقام پر ملازم ہے۔ جن بچوں کو پہلے ہم میاں بیوی دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ آج ہم ان کے سایہ کے لیے بھی ترستے ہیں۔ بھیڑوں کا فارم ہے تو خیال لگا ہوا ہے کہ اتنی قیمتی بھیڑیں ہیں، پتہ نہیں ان کا کیا ہوا۔ ٹرک چل رہے ہیں تو اس کی فکر ہے کہ کہیں ایکسیڈنٹ نہ ہو گیا ہو۔ دکانیں ہیں تو ان کی پریشانی کہ ملازم کہیں گڑ بڑ نہ کر رہے ہوں ۔ غرض جتنی زیادہ دولت ہے اتنی ہی زیادہ فکر ہے ۔ سیل ٹیکس ، انکم ٹیکس اور طرح طرح کے قانونی جھگڑے اس کے علاوہ ہیں۔ زندگی لطف سے خالی ہو کر بس مسائل اور پیچیدگیوں کا مجموعہ بن گئی ہے۔ جو دولت آدمی کو سکون نہ دے بلکہ بے چین کرے اس کے متعلق یہی کہا جائے گا کہ ۔ وہ ایک بجلی ہے جو آدمی کے اوپر گر پڑی ہے ۔ دولت کو صرف اپنی ذات پر خرچ کیا جائے تو وہ عذاب ہے مگر اللہ کے راستہ میں خرچ کیا جائے تو وہ نعمت بن جائے گی : حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ عن ابی ذر قال انتهيت الى النبي صلى الله عليه کے پاس آیا۔ آپ اس وقت کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ وسلم وهو جالس في ظل الكعبة فلما آپ نے جب مجھ کو دیکھا تو فرمایا کہ کعبہ کے رب کی قسم، وہ لوگ رأني قال : هم الأخسرون ورب الكعبة گھاٹے میں ہیں۔ میں نے کہا کہ میرے باپ اور ماں آپ فقلت فداك ابى وامي من هم۔ قال پر فدا ہوں، وہ کون لوگ ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ زیادہ هم الاكثرون اموالا الا من، قال : مال والے، سوا اس کے جس کو مال ملے تو وہ اپنے هك ذا وهكذا وهكذا۔ من بين يديه آگے اور پیچھے، اپنے دائیں اور بائیں اس ومن خلفه وعن يمينه وعن شماله کو خرچ کرے۔ اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ وقليل ما هم۔ (متفق عليه)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page