خواتین
Urdu book, p. 255
By Maulana Wahiduddin Khan
عن ثوبان رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من تكفل لى ان لا يسئل الناس شيئاً وأتتكفل له بالجنة فقلت، انا فكان لا يسئل احداً شئ - أن اللسائل ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے لئے اس سے بہتر ہے کہ تم سوال کرو اور قیامت کے دن اپنے چہرہ پر ایک داغ لے کر آؤ۔ حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کوئی چیز نہ مانگے گا اور میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں۔ (.. ).. .. پس حضرت ثوبان کا یہ حال ہوا کہ وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔ اس قسم کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ " اسلامی روح کے سراسر خلاف ہے ۔ آدمی کو چاہیئے کہ وہ اپنی محنت پر بھروسہ کرے نہ کہ وہ دوسروں سے مانگنے لگے۔ حتیٰ کہ گھر کا اثاثہ بیچ کر محنت کے میدان چاہئیے کہ رہ رہ کر آپ کے چہرہ پر نہ سہہ رتا ہے۔ میں داخل ہونا پڑے تو یہ بھی آدمی کو کرنا چاہئیے ۔ سوال سے سر سبز کا حکم جو فرد کو دیا گیا نے و کروں کے لئے ہے ۔ نھیں مقرہ امامہ کہ پپک رسمت یہیں ہی اشاعت کے لئے بھی ہے۔ مسلمانوں کی ایسی کوئی توی ، سیاسی، سواں کے پر ہیز کا علم ہو فر دو دیا لیا ہے نا ہی جماعت کے لئے کی ہے ۔ مسلمانوں کی ایسی کوئی پائسی جس کی بنیاد مانگ اور مطالبہ پر رکھی جائے وہ سرا سر غیر اسلامی قرار پائے گی ۔ مسلمانوں کو جس طرح اپنی انفرادی زندگی میں مانگنے کے بجائے محنت کرنے پر بھروسہ کرنا ہے اسی طرح اجتماعی زندگی میں بھی انھیں یہ کرنا ہے کہ خود اپنے وسائل کی بنیاد پر اپنا قومی منصوبہ بنائیں۔ دوسروں سے مانگنے کے بجائے خود کرنے کے یہ فرمارہا ہے کہ وہ اپنے وسائل ہی کی بنیاد پر پاپیوں حاصل کرنے کا طریقہ اختیار کریں۔ وہ قوم ہمالیہ سے باطل پر محسوس نہ کیا ہو" جو یہ ہیں ۔ وہ دوسری طرف لے جائے جاتے اورت "پالا جا رہا ہے" رکھ گئی زمین کو، جو بھی عع م ن ب ن ب ر ا ک ے ا ر ا ز ق ہر وہ قومی پالیسی باطل ہے جس کی بنیاد " مطالبات " پر رکھی گئی ہو۔ کوئی بھی عذر اس کی اجازت نہیں دیتا کہ مسلمان جد وجہد کا طریقہ چھوڑ کر مطالبات کا طریقہ اختیار کر لیں۔ مسلمان اگر ایسا کریں کہ رہ اپنی قومی پالیسی مطالبات کی بنیاد پر بنائیں تو یہ خدا اور رسول کے طریقہ کے سراسر خلاف ہوگا۔ مطالبات سیاست بلا شبہ غیر مسنون سیاست ہے ۔ مسلمان چھوٹے چھوٹے معاملہ میں مسنون اور غیر مسنون کا فرق جانتے ہیں اور اس کا نہ بر جست اہتمام کرتے ہیں ۔ مگر بڑے بڑے معاملات میں انھوں نے اپنی پوری قومی سیاست کو غیر مسنون طریقہ پر چلا رکھا ہے اور انھیں اس کا احساس تک نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader