اتحاد
Urdu book, p. 263
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامی مسلک قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اے لوگو، اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں (النساء ۱) ابن کثیر نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پیدائش کی اصل ایک باپ اور ایک ماں سے ہے تا کہ لوگ ایک دوسرے کی طرف مائل ہوں (ان اصل الخلق من اب واحد وام واحد ليعطف بعضهم على بعض) تفسیر ابن کثیر ۴۳۸/۱۔ حدیث (ابو داؤد) میں یہی بات اس طرح کہی گئی ہے کہ تمام انسان یکساں طور پر اللہ کے بندے ہیں اور سب آپس میں بھائی بھائی ہیں (ان العباد كلهم اخوة) اسی طرح خطبہ حجتہ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ تمام انسان آدمی کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے تھے (الا كلكم بنو آدم و آدم من تراب )۔ اس اسلامی اصول کے مطابق، مسلمان اور غیر مسلم سب ایک دوسرے کے لیے بھائی بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی تعلق کی صحیح ترین صورت یہ ہے کہ اس کو برادرانہ بنیاد پر استوار کیا جائے۔ مولانا سید حسین احمد مدنی نے اس کو’’ متحدہ قومیت ‘‘سے تعبیر کیا تھا۔ (ملاحظہ ہو مولانا موصوف کی کتاب، متحدہ قومیت اور اسلام، مطبوعہ ۱۹۳۸، مجلس قاسم العلوم دیوبند) مولانا حسین احمد مدنی کے ہندو مسلم اتحاد کے نقطہ نظر کو مزید سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو، مکتوبات شیخ الاسلام، جلد اول، مکتوب ۶۳۔ صفحہ ۱۲۱۔ ۱۷۲ ۱۹۴۷ سے پہلے ہندوستان کے تقریباً تمام علماء اس مسلک پر متفق تھے۔ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو بھائی بھائی کی طرح متحد کرنا چاہتے تھے۔ مگر بعض ناموافق اسباب کی بنا پر، قومی اتحاد کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ اس کے برعکس، دونوں فرقوں کا تعلق، تقسیم اور علاحدگی کی بنیاد پر قائم ہوگیا۔ اس تفریقی سیاست کے نہایت مہلک نتائج برآمد ہوئے۔ ملک کی تقسیم کے بعد فرقہ وارانہ سیاست کا طوفان ختم ہوا مولانا ابوالکلام آزاد نے دسمبر ۱۹۴۷ میں لکھنؤ میں ایک مسلم کانفرنس کی ۔ مولانا آزاد نے اس موقع پر صدارتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader