Urdu book · مطالعۂ حدیث

اتحاد

Urdu book, p. 264

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں کے موجودہ حالات اور ملک کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے اس سے زیادہ کوئی ضروری چیز نہیں ہو سکتی کہ فرقہ واریت کو جو مذہب کے نام پر ابھاری گئی ہے، ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے۔ اگر ہمیں بربادی سے بچنا ہے تو فرقہ پرستی کے تمام دروازوں کو ہمیں بند کرنا پڑے گا۔ اور ہندو۔ مسلم تعلق کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بنیاد پر قائم کرنا ہوگا۔ ضرورت ہے کہ علماء کے اس مسلک کو جو مکمل طور پر قرآن و سنت پر مبنی تھا، اس کو دوبارہ پوری طاقت کے ساتھ زندہ کیا جائے۔ سلمانان ہند کے لیے بلا شبہ صحیح اور مفید پالیسی یہی ہے کہ اس ملک میں دونوں فرقوں کے تعلق کو اخوت اور اتحاد کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ الرسالة مشن پچھلے ۲۰ سال سے یہی خدمت انجام دے رہا ہے۔ اس مشن کو اسلام اور علماء اسلام کی مکمل تائید حاصل ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس اصلاحی مہم کو مزید موثر اور کامیاب بنایا جائے۔ اس سلسلہ میں چند بنیادی نکات حسب ذیل ہیں : ۱۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان برادرانہ احساس کو زیادہ سے زیادہ ابھارا جائے ۔ ان کے باہمی تعلق کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے۔ اس کے لیے ہر ممکن تدبیر اختیار کی جائے کہ دونوں فرقوں کے درمیان معتدل فضا میں برادرانہ اختلاط ہونے لگے۔ ۲۔ مسلمان احتجاج غیر کے بجائے تعمیر ذات کو اپنی مستقل پالیسی بنائیں ۔ وہ احتجاج اور مظاہرہ اور جلوس کے طریقہ کو یکسر چھوڑ دیں۔ شکایت کے مواقع پر وہ ٹکراؤ سے بچیں اور ہمیشہ پر امن تدبیر کے ذریعہ نزاعی معاملات کو طے کرنے کی کوشش کریں ۔ نزاع کے موقع پر ٹکراؤ کا طریقہ نزاع کو بڑھاتا ہے اور مفاہمت کا طریقہ نزاع کو ختم کر دیتا ہے۔ ۳۔ تعلیم اور اقتصادیات کو سب سے زیادہ قابل توجہ چیز قرار دیا جائے۔ مسلمانوں میں تعلیم اگر عام ہو اور ان کی اقتصادی حالت بہتر ہو جائے تو اس کے بعد تمام مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے ۔ ۴۔ ہر مقام پر ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ امن کمیٹیاں بنائی جائیں ۔ اس کے ذریعہ یہ کوشش ہو کہ امن اور اتحاد کو برہم کرنے والے ہر واقعہ کو ابتدائی میں حسن تدبیر سے ختم کر دیا جائے ۔ ۵۔ لوگوں میں یہ مزاج پیدا کیا جائے کہ وہ اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہنا سیکھیں۔ رایوں کے فرق کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کریں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page