Urdu book · مطالعۂ حدیث

اتحاد

Urdu book, p. 266

By Maulana Wahiduddin Khan

قیمتی چیز اخرچ البخاري في التاريخ الصغیر عن زید بن اسلم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ زید بن اسلم عن ابیہ ان عمر بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب سے الخطاب قال لاصحابه ۔ تمنّوا۔ فقال کہا کہ تم لوگ اپنی تمنا بیان کرو۔ ان میں سے احدهـم اتمنى ان يكون ملء هذا البيت ایک شخص نے کہا کہ میری تمنا ہے کہ یہ گھر درہم دراهم فانفقها في سبيل الله - فقال سے بھرا ہوا ہوتا تو میں ان کو اللہ کے راستے میں تمنّوا۔ فقال اخر اتمنى ان يكون ملءُ خرچ کرتا ۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ اور تمنا کرو۔ هذا البيت ذهباً فانفقها في سبيل الله دوسرے شخص نے کہا کہ میری تمنا ہے کہ اس قال تمنّوا۔ قال اخر اتمنى ان يكون گھر کے برابر سونا ہوتا تو میں اس کو اللہ کے ملء هذا البيت جوهراً فانفقته فى راستے میں خرچ کرتا ۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ سبيل الله ۔ فقال عمـر ۔ تمنوا ۔ فقالوا اور تمنا کرو۔ ایک اور شخص نے کہا کہ میری تمنا ما تمنّينا بعدهذا۔ قال عمـر؛ لكني أتمنّى ہے کہ اس گھر کے برابر جواہرات ہوتے تو میں ان يكون ملء هذا البيت رجلاً لامثل ان کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ۔ حضرت عمرؓ ابي عبيدة بن الجراح ومعاذ بن جبل نے کہا کہ اور تمنا کرو۔ لوگوں نے کہا کہ اس کے وحذيفة بن اليمان فاستعملهم بعد ہماری کوئی تمنا نہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: في طاعة الله (۲۳۳) مگر میں یہ تمنا کرتا ہوں کہ یہ گھر ابو عبیدہ بن جراح اور معاذ بن جبل اور حذیفہ بن یمان جیسے آدمیوں سے بھرا ہوتا اور ان کو میں اللہ کی اطاعت میں استعمال کرتا ۔ کام کا ایک آدمی اس دنیا کا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہے ۔ وہ آدمی جس کی ایک رائے ہو مگر وہ اپنی رائے پر اصرار نہ کرے ۔ جو اپنے خلاف تنقید کو بھی اسی طرح سنے جس طرح وہ اپنی تعریف کو سنتا ہے۔ جو اصول سے انحراف کا تحمل نہ کر سکے ، جو اختلاف کے باوجود متحد ہونا جانتا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page