Urdu book · مطالعۂ حدیث

اتحاد

Urdu book, p. 267

By Maulana Wahiduddin Khan

سیاسی اختلاف حدیث کے مجموعوں میں کتاب الفتن کے تحت کثرت سے ایسی روایتیں آئی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشین گوئی فرمائی ہے کہ میرے بعد حکمرانوں کے اندر بگاڑ پیدا ہوگا۔ لوگ اس سیاسی بگاڑ کی اصلاح کے نام پر حکمرانوں سے لڑیں گے۔ یہ لڑائیاں میری امت کو تباہ کر دیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی جنگ سے شدت کے ساتھ منع فرمایا۔ آپ نے تاکید کی کہ حکمرانوں میں خواہ تم کتنا ہی بگاڑ دیکھو مگر تم ان سے جنگ نہ کرنا۔ تم ان کے مقابلہ میں صرف صبر اور خاموشی کا طریقہ اختیار کرنا۔ اس سلسلہ میں حدیث کی ہر کتاب میں کثرت سے روایتیں آئی ہیں۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: من کرہ من امیرِہ شیئا فلیصبرہ (جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو وہ اس پر صبر کرے)۔ اس موضوع پر سعودی عرب سے ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے الغلو فی الدین (عبدالرحمن بن مُعلا اللوحیق)۔ چھو سو صفحے کی اس کتاب میں اس موضوع پر تمام احادیث اور آثار کو جمع کر دیا گیا ہے۔ تفصیل کے طالب اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ تاریخ میں سب سے زیادہ لڑائیاں سیاسی اختلاف کی بنا پر پیدا ہوئی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سیاست کبھی پوری طرح بگاڑ سے خالی نہیں ہو سکتی۔ سیاسی اقتدار اور بگاڑ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اس میں کچھ نادر شخصیتوں کا استثناء ہو سکتا ہے۔ مگر عمومی قاعدہ یہی ہے۔ اب ایسا ہوتا ہے کہ لوگ جب سیاسی حکمرانوں میں بگاڑ دیکھتے ہیں تو وہ فوراً اس کی اصلاح کے نام پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ اصلاح سیاست کے نام پر حکمرانوں سے جنگ چھیڑ دیتے ہیں۔ یہ اصلاحی جنگ ہمیشہ فسادی جنگ بن جاتی ہے۔ پوری تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی اصلاح کے نام پر سیاسی حکمرانوں سے لڑائی کی گئی تو اس کے نتیجہ میں صرف بگاڑ اور فساد میں اضافہ ہوا، مزید یہ کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page