ایمان
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
منافقانہ خوبی قرآن میں منافقین کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: اور جب تم انہیں دیکھو تو ان کے جسم تم کو اچھے لگتے ہیں۔ اور اگر وہ بات کرتے ہیں تو تم ان کی بات کو سنتے ہو (واذا رايتهم تعجبك اجسامهم وان يقولوا تسمع لقولهم ) المنافقون ۴ ۔ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا جب کہ امانت (honesty) لوگوں کے دلوں سے اُٹھ جائے گی۔ اس زمانہ میں بظاہر لوگوں کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ کتنا زیادہ عاقل ہے اور وہ کتنا زیادہ ظرف والا ہے اور وہ کتنا زیادہ صبر و استقلال والا ہے۔ حالاں کہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا : (ويقال للرجل ما اعقله وما اظرفه وما اجلده وما في قلبه مثقال حبة من خردل من ايمان) فتح الباری ۱۱ / ۳۴ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کردار کی دو قسمیں ہیں ــــ مخلصانہ اور منافقانہ ۔ جو اخلاقی خوبیاں ایک مخلص انسان کے اندر ہوتی ہیں، بظاہر وہی غیر مخلص انسان کے اندر بھی ہوسکتی ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کو صرف مخلصانہ کردار مطلوب ہے، غیر مخلصانہ کردار کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ مخلصانہ کردار خوف خدا کے تحت پیدا ہوتا ہے اور منافقانہ کردار خوف انسان کے تحت ۔ مخلصانہ کردار کا محرک آخرت کا معاملہ ہے اور منافقانہ کردار کا محرک دنیا کا معاملہ ۔ مخلصانہ کردار خدا پرستانہ جذبہ کے تحت ابھرتا ہے اور منافقانہ کردار صرف تاجرانہ جذبہ کے تحت۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader